• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران میں مہنگائی کے خلاف پر تشدد احتجاج، مظاہرین پر گولی چلائی تو مداخلت کرونگا، ٹرمپ، خطے میں افراتفری پھیلے گی، ایران کا انتباہ

پیرس (اے ایف پی، جنگ نیوز)ایران میں مہنگائی کیخلاف جاری احتجاج پرتشدد صورتحال اختیار کرگیا ہے، مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 5افراد اور ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے ، مظاہرے 15شہروں تک پھیل گئے ہیں، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایران میں مداخلت کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے مظاہرین پر گولی چلائی تو امریکا جوابی کارروائی کیلئے پور ی طرح تیار ہے ،امریکا مظاہرین کے بچاؤ کیلئے آئےگا، ایران کے سیکورٹی ادارے کے سربراہ علی لاریجانی اور خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی مداخلت سے خطے میں افراتفری پھیلے گی ، خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا، خطے میں امریکی مفادات کو تباہ کردیں گے، ٹرمپ کو اپنے فوجیوں کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہئے، ایران کی سلامتی ریڈ لائن ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو ایران کے کئی شہروں میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ بدامنی میں شدت آنے کے بعد یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔دارالحکومت تہران میں دکانداروں نے اتوار کو بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی جمود کے خلاف ہڑتال کی تھی، جس کے بعد یہ احتجاج ایک ایسی تحریک میں بدل گیا جس میں سیاسی مطالبات شامل ہیں اور اب یہ ملک کے دیگر حصوں تک پھیل چکی ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا: "اگر ایران پرامن مظاہرین پر گولیاں چلاتا ہے اور انہیں بے رحمی سے قتل کرتا ہے، جو کہ ان کا وطیرہ ہے، تو امریکاان کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔" انہوں نے مزید کہا، "ہم پوری طرح تیار اور لیس ہیں۔"اس بیان پر ایران کے اعلیٰ ترین سیکورٹی ادارے کے سربراہ، علی لاریجانی نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ "اس اندرونی معاملے میں امریکی مداخلت کا مطلب پورے خطے کو غیر مستحکم کرنا اور امریکی مفادات کو تباہ کرنا ہوگا۔" لاریجانی نے ایکس (ٹویٹر) پر مزید کہا کہ امریکی صدر کو "اپنے فوجیوں کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے۔"ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا کہ کسی بھی امریکی مداخلت کا "بھرپور جواب" دیا جائے گا، انہوں نے ایران کی سلامتی کو "ریڈ لائن" قرار دیا۔حالیہ دنوں میں لاریجانی اور صدر مسعود پزیشکیان سمیت ایرانی رہنماؤں نے ایران کی خراب معیشت کے خلاف پرامن احتجاج کو جائز اور قابلِ فہم قرار دیا ہے۔ پزیشکیان نے جمعرات کو کہا تھا کہ اگر وہ معاشی مشکلات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو وہ اور ان کی حکومت مذہبی لحاظ سے "جہنم کے مستحق" ہوں گے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی حکام نے کسی بھی قسم کی بدامنی پر سخت ردعمل کی وارننگ بھی دی ہے۔جمعہ کو صوبہ لرستان کے پراسیکیوٹر علی حساوند نے عدلیہ کی ویب سائٹ میزان پر بیان دیا کہ "غیر قانونی اجتماعات میں شرکت، امن عامہ میں خلل ڈالنا، املاک کو نقصان پہنچانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نافرمانی جیسے اقدامات جرم ہیں اور عدالتیں ان سے پوری سختی کے ساتھ نمٹیں گی۔"ایران کی معیشت اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے برسوں سے عائد سخت بین الاقوامی پابندیوں، بے قابو مہنگائی اور گرتی ہوئی کرنسی کی وجہ سے تباہ حال ہو چکی ہے۔

اہم خبریں سے مزید