اسلام آباد(آصف محمود بٹ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا ہے کہ ریاست کی مضبوطی آئین کی بالادستی‘ اختیارات کی آئین کے مطابق تقسیم اور ادارہ جاتی حدود کے احترام سے ہی ممکن ہے‘ اگر سیاست دان جج بن جائیں، جج انتظامی افسر بنیں اور سول افسر سیاست کریں تو اس کا نتیجہ ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوگا‘ آئین پاکستان میں ریاست کے اختیارات کو تین علیحدہ ستونوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ شامل ہیں۔ کسی ایک ادارے میں طاقت کا ارتکاز ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے‘18ویں ترمیم کے بعد پیداہونےو الا خلاعدلیہ نے پر کیا۔ وہ سپریم کورٹ کے دورے پر آئے 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے پروبیشنری افسران سے خطاب کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ آنے والے 136 پروبیشنری افسران کو سول سروس اکیڈمی کے امرسو لرننگ پروگرام کے تحت عدالتی نظام سے آگاہی دی گئی۔چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی کاکہناتھاکہ کسی ایک ستون میں طاقت جمع ہونے سے طویل المدت عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 58(2)(b) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شق کے تحت منتخب حکومتوں کی برطرفی سے طاقت کا خلا پیدا ہوا۔ اسی طرح 18ویں ترمیم کے بعد بھی ایک خلا پیدا ہوا جسے بعد میں عدلیہ نے پُر کیا جو ادارہ جاتی عدم توازن کے نتائج کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے زیر تربیت سول افسران پر زور دیا کہ آئین کے مطابق اختیارات کی تقسیم کا احترام، آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا اور ہر ادارے کے قانونی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔