اسلام آباد (قاسم عباسی) آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی منڈیاں شدید جھٹکے کے خطرے سے دوچار، امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں ایران کی کارروائی، تیل قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک جانے کا امکان، چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے درآمد کنندگان کو سب سے زیادہ معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ عالمی توانائی منڈیاں اس وقت شدید اضطراب کا شکار ہیں کیوں کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے، جو دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ اقدام اس ہفتے کے آخر میں ایرانی سرزمین پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملوں کے ردِعمل میں کیا گیا، جس کے بعد عالمی معاشی کساد بازاری کے فوری خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ دنیا کے تقریباً 20 سے 25 فیصد خام تیل اور لگ بھگ ایک تہائی مائع قدرتی گیس اسی 21 میل چوڑی گزرگاہ سے گزرتی ہے، اور اس بندش نے عالمی تجارت کی ایک بڑی شہ رگ کو مفلوج کر دیا ہے۔ بڑے مالیاتی اداروں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منڈیاں کھلتے ہی تیل کی قیمتیں 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں کیونکہ رسد کے نظام کو غیر معمولی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی سرکاری نشریات میں جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ انہیں اس آبی راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس سے مکمل ناکہ بندی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بندش سے پہلے ہی دباؤ کا شکار توانائی منڈیوں میں رسد فوری کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں شدید اضافہ اور دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔