پیرس (اے ایف پی) 1979کے اسلامی انقلاب کے بعد، جس نے مغرب نواز پہلوی شاہی خاندان کا خاتمہ کیا، ایران میں ایک مذہبی قیادت پر مبنی نظام قائم ہوا جس کی سربراہی سپریم لیڈر کرتے ہیں۔ یہ عہدہ تاحیات ہوتا ہے اور اس کا انتخاب ماہرین کی منتخب اسمبلی کرتی ہے، تاہم عملی طور پر ملک کی داخلی و خارجی پالیسی پر حتمی اختیار سپریم لیڈر ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور معیشت کی نگرانی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔موجودہ سپریم لیڈر Ali Khamenei 1989 میں انقلابی رہنما روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد منصب پر فائز ہوئے۔ 86 سالہ خامنہ ای کو مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی سمجھا جاتا ہے اور وہ عدلیہ کے سربراہ، گارڈین کونسل کے نصف ارکان، اعلیٰ فوجی قیادت اور سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ سمیت اہم عہدوں پر تقرری کرتے ہیں۔