کراچی (نیوز ڈیسک) امریکی جریدے کے تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مادورو کو ہٹانے کی کوشش سے لگتا ہے مڈل ایسٹ سبق بھول گئے، طاقت سے حکومتیں بدلنا زیادہ مسائل کا سبب، مادورو حکومت کو زبردستی ختم کرنے سے انتشار پھیلے گا۔ امریکی فوج کی موجودہ تعیناتی مکمل قبضے کیلئے ناکافی، ایئر اسٹریک اور خصوصی آپریشنز ممکنہ امکانات، امریکا ہمیشہ جاری جنگ کے خطرے میں، اسی لیے70 فیصدعوام فوجی کارروائی کیخلاف ہیں۔ ٹائم کے تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو ہٹانے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا نے مڈل ایسٹ میں گذشتہ 25 سال کی ناکام مداخلتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگرچہ مادورو غیر مقبول ہے اور وینزویلا کی فوج نسبتاً کمزور ہے لیکن اس کی حکومت کو زبردستی ختم کرنے سے ملک میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے اور امریکی سرزمین کے قریب مسائل جنم لے سکتے ہیں، جیسے مہاجرین، منشیات کی اسمگلنگ اور سیاسی عدم استحکام۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کیریبین میں تقریباً 15 ہزار فوجی، طیارے، میزائل اور ڈرونز تعینات کیے ہیں، لیکن یہ مکمل حملے یا قبضے کے لیے ناکافی ہیں۔