• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مائی کلاچی سے ملنے والی چاروں لاشیں ماں اور بچوں کی ہیں

کراچی( اسٹاف رپورٹر )مائی کلاچی سے گزشتہ شب ملنے والی چاروں لاشیں ماں اور بچوں کی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈاکس تھانے کی حدود مائی کلاچی روڈ جنگل سائیڈ میں کھلے مین ہول سے جمعہ کی شب چار افراد کی لاشیں ملی تھیں۔پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت 35 سالہ مسماۃ انیلہ، 13 سالہ کشور زہرہ دختر میر مختیار علی، 13 سالہ حسین علی ولد امیر مختیار علی اور 10 سالہ کونین علی ولد امیر مختیار علی کے ناموں سے ہوئی۔ مقتولین میں ماں اور تین بچے شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق مقتولہ مسماۃ انیلہ جو کہ امیر مختیار علی کی بیوی تھی ان کے درمیان طلاق ہوگئی تھی۔ انہوں نے 30 دسمبر 2025 کو کھارادر میزان بینک کے اوپر فرسٹ فلور پر کرائے کا مکان لیا تھا۔خاتون کی لاش کو اس کی بہن نے شناخت کیا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولین کی گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی تھی۔ اطلاع پر مقتولہ انیلہ کے لواحقین ڈاکس پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے بتایا کہ ہماری کسی سے دشمنی نہیں ہے۔ بہن سے ایک ہفتہ قبل آخری بار فون پر بات ہوئی تھی۔مقتولہ انیلہ کے بھائی نے بتایا کہ میں دو روز قبل بہن کے گھر گیا تو تالا لگا ہوا تھا، 30 دسمبر سے بہن کا موبائل نمبر بند تھا۔ بہن کو ڈھائی سال قبل شوہر نے طلاق دے دی تھی جس کے بعد وہ بچوں کی کفالت کررہی تھی ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے ۔ مصطفیٰ نے بتایا کہ میری بھانجی اور دونوں بھانجے پڑھتے تھے۔متعدد بار بہن کے گھر گیا تو تالا لگا ہوا تھا۔ایس ایچ او تھانہ ڈاکس نند لعل نے بتایا کہ قتل کی واردات ذاتی تنازعہ کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے۔واقعہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں قتل کی دفعہ کے تحت درج کر لیا گیا ہے اور واقعہ کی تفتیش جاری ہے،مقدمہ کے مطابق مقتولین کو کسی اور مقام پر قتل کر کے مذکورہ مقام پر پھینکا گیا ہے۔ ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ کے مطابق خاتون سے ایک شخص کے تعلق کے حوالے سے معلومات ملی ہیں اور پولیس اس پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ دشمنی کا نہیں بلکہ ذاتی رنجش کا معلوم ہوتا ہے۔ پولیس کے مطابق لاشیں ورثاء کے حوالے کی جارہی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید