کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) سال 2026 کے ابتدائی دنوں میں ہی کراچی میں آوارہ کتوں کے حملوں نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ انڈس اسپتال کورنگی میں سال کے پہلے پانچ دنوں کے دوران کتے کے کاٹے کے 300 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایسے دل دہلا دینے والے کیسز بھی شامل ہیں کہ ایک 41 سالہ شخص کی انگلی کاٹنا پڑی جبکہ چہرے پر کاٹنے کے تمام واقعات دو سال سے کم عمر بچوں کے ہیں، جنہیں آوارہ کتوں نے بری طرح نوچ ڈالا۔ یہ تمام واقعات کراچی کے مختلف علاقوں کورنگی، حب چوکی، بلدیہ، لانڈھی اور گڈاپ ٹاؤن میں پیش آئے، جنہوں نے شہر میں عوامی خوف اور تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ انڈس اسپتال کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز کے مطابق ریبیز سے بچاؤ کی مکمل پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) فراہم کی گئی تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کتے کے کاٹے کے بعد علاج میں ذرا سی بھی کوتاہی ہو جائے تو ریبیز کا خطرہ انتہائی بڑھ جاتا ہےجو علامات ظاہر ہونے کے بعد تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال سندھ میں ریبیز کے پھیلاؤ نے پہلے ہی سنگین شکل اختیار کر لی تھی۔ وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے مطابق صوبے بھر میں ایک سال کے دوران کتے کے کاٹے کے 2 لاکھ 84 ہزار 138 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ماہرین کے مطابق رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی تعداد بھی ہزاروں میں ہو سکتی ہے کیونکہ سندھ میں بیماریوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی مکمل اور منظم نظام موجود نہیں۔ گزشتہ سال صرف کراچی کے دو بڑے اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 18 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو ئیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک سو فیصد قابلِ بچاؤ مرض ہے، تاہم سندھ میں آوارہ کتوں کی بے قابو آبادی، ناکافی ویکسینیشن، مؤثر ڈاگ کنٹرول پالیسی کی عدم موجودگی اور کمزور نگرانی کے باعث کتے کے کاٹے کے معمولی زخم بھی جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ڈاگ کنٹرول، ماس ویکسینیشن، نس بندی اور شفاف ڈیٹا کلیکشن کا نظام نافذ کیا جائے بصورت دیگر ریبیز کا یہ خاموش قاتل مزید جانیں نگلتا رہے گا۔