کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ سوائے پی ٹی آئی کے سب پر حملہ ہوتا ہے، اتفاق رائے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ پی ٹی آئی اور کے پی کے حکومت ہے، سب ہمارے بیانیہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کےساتھ‘‘ میں گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں صحافی و تجزیہ کاروں طاہر خان اور کامران یوسف نے بھی گفتگو کی۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی پر اتفاق رائے کے لئے پس پردہ بہت کوشش ہوچکی ہے۔ اتفاق رائے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ پی ٹی آئی کے پی کے حکومت ہے۔ آج دہشت گردی کے ثبوت اور شواہد سامنے رکھے گئے ہیں۔ پشاور میں آج تک سیف سٹی منصوبہ آدھا بھی نہیں بن سکا ہے۔ بارہ تیرہ سال سے پی ٹی آئی کا ایک ہی موقف ہے۔ پی ٹی آئی جان بوجھ کر عام آدمی کو کنفیوز کرنے کا ماحول پیدا کرتی ہے۔ سہیل آفریدی این ایف سی اجلاس میں آتے ہیں دہشتگردی پر اجلاس میں نہیں۔ پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیاں بلکہ عالمی طاقتیں سب ہمارے بیانیہ کو تسلیم کرتے ہیں اور سب یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ خطہ سے نکل کر دنیا بھر کا مسئلہ ہوگیا ہے اور اگر کوئی تسلیم نہیں کر رہا ہے تو وہ صرف پی ٹی آئی ہے۔ وسائل بھی دہشت گردی کی جنگ کے خلاف لگانے کے کہیں اور لگائے جارہے ہیں۔ سب سے زیادہ جس صوبے میں دہشت گردی ہے پشاور آج تک سیف سٹی منصوبہ آدھا بھی مکمل نہیں کرسکا ہے۔ دینی جماعتیں ہوں سیاسی ہوں یا سیکیورٹی کے ادارے سب پر حملہ ہوتا ہے اگر نہیں ہوتا تو پی ٹی آئی پر نہیں ہوتا ہے۔ یہ پولیٹیکل ٹیرر نیکسز ہے۔میں بطور وزیر مملکت برائے داخلہ وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ ان کے وزیراعلیٰ نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو کہا کہ ہم نہیں لڑیں گے نہیں تو ہم بھی اے این پی، جے یو آئی ایف، پیپلز پارٹی اور نون لیگ بن جائیں گے۔