اسلام آباد (محمد صالح ظافر/ خصوصی تجزیہ نگار) خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور انکے رفقا کو کراچی میں مزار قائد کے باہر عام جلسہ کرنے کی اجازت کڑی شرائط کے تحت ملے گی۔ اس بارے صوبائی انتظامیہ کو امن و امان کی نگرانی کے ذمہ دار اداروں کی رپورٹ جمعہ (پرسوں) تک مل جائیگی۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کے حالیہ منصوبے کے افشا ہونے کے بعد تحریک انصاف کے منتظمین کو جلسہ کرنے سے روک دیا جائے۔ تاہم سہیل آفریدی اور انکے ساتھیوں کو مزار قائد پر فاتحہ خوانی کیلئے اجازت دے دی جائے گی۔ قابل اعتماد سیاسی ذرائع نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا امکان ترجیحات معدوم ہورہا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی ان شدت پسندوں میں شامل ہوگئے ہیں جو مذاکرات کی مزاحمت کررہے ہیں، دوسری جانب مذاکرات کے متحرک وزیراعظم کے سیاسی دور کے لیے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے بھی اچانک اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے بانی کے ساتھ ساتھ اس کی اہلیہ کو بھی اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔ ویر دفاع خواجہ محمد آصف نے کھلے بندوں مذاکرات کی مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔