• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرق وسطیٰ کی سیاست، 2 اسلامی ممالک کے عالمی حکمت عملی پر اثرات

کراچی (رفیق مانگٹ)مشرق وسطیٰ کی سیاست، 2 اسلامی ممالک کے عالمی حکمت عملی پر اثرات ،ایک ملک کے نظریاتی عزائم ہیں اور دوسرے کے اقدامات حقیقت پسندانہ ہیں، ایک ملک کی علاقائی بحرانوں کو قابو میں رکھنے اور معاشی ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش ، دوسرا ملک پراکسی جنگ اور سلطنتی نوعیت کے عزائم کے ساتھ منظر عام پر آیا، نیا اسلامی محور، دونوں ممالک کے اختلافات عالمی نظام کو ہلا سکتے ہیں ، موجودہ صورتحال واشنگٹن اور عالمی طاقتوں کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج، پراکسی جنگ یا طاقت کی سیاست، نیویارک ٹائمز، سی این این، ٹی آر ٹی اور الجزیرہ کی رپورٹس۔ تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ کے دو اہم اسلامی ممالک کے درمیان حالیہ اختلافات عالمی سطح پر سنجیدہ اثرات پیدا کر رہے ہیں۔ ایک ملک نے علاقائی بحرانوں کو قابو میں رکھنے اور معاشی ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش کی، جبکہ دوسرا ملک پراکسی جنگ اور سلطنتی نوعیت کے عزائم کے ساتھ منظرِ عام پر آیا۔ یمن اور سوڈان میں جاری تنازعات، عالمی منڈیوں، سرمایہ کاری اور حساس بین الاقوامی مذاکرات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک ملک نظریاتی بنیادوں پر سرگرم ہے، اور دوسرا سخت گیر حقیقت پسند ہے، جس سے خطے میں طاقت اور اتحاد کے توازن میں تبدیلی آئی ہے۔ پراکسی ملیشیاؤں، متوازی سکیورٹی ڈھانچوں اور غیر ریاستی نیٹ ورکس کے ذریعے یہ کشیدگی افریقہ اور بحیرہ احمر تک پھیل رہی ہے۔ موجودہ صورتحال واشنگٹن اور عالمی طاقتوں کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، جو خطے میں دیرپا عدم استحکام کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔نیویارک ٹائمز نے لکھادونوں اسلامی ممالک کے وسیع عالمی اثر و رسوخ کے باعث یہ اختلافات عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتے ہیں، سرمایہ کاری کو پٹری سے اتار سکتے ہیں اور دنیا بھر میں حساس مذاکرات کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔واشنگٹن کے لئے یہ صورتحال ایک سنجیدہ دردِ سر بن سکتی ہے۔ ایک ملک نےمعاشی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے علاقائی تنازعات کو کم کرنے کی کوشش کی۔اس کے برعکس، دوسرا علاقائی باغی کردار کے طور پر ابھرا ہے، جس کے عزائم بظاہر سلطنتی نوعیت کے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں اس نے ایسے معاہدوں کی راہ ہموار کی، جن کے تحت امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جو کئی عرب ممالک کی دیرینہ پالیسی کے برخلاف تھا۔
اہم خبریں سے مزید