• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی اداروں کا خطرناک انکشاف، کراچی پولیو وائرس کی ترسیل کا مرکز قرار

کراچی (بابر علی اعوان) عالمی اداروں کی ایک تشویشناک بیرونی آڈٹ رپورٹ میں کراچی کو پولیو وائرس کی مسلسل ترسیل اور ملک کے مختلف حصوں میں وائرس پھیلانے کا بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے‘اس سخت اور چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق اربوں روپے کے اخراجات، مسلسل مہمات اور بین الاقوامی نگرانی کے باوجود کراچی میں پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی کسی سائنسی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ انتظامی نااہلی‘ناقص تیاری، غلط رپورٹنگ اور کمزور قیادت کا شاخسانہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں پولیو مہمات سرکاری ریکارڈ میں بڑی حد تک کامیاب ظاہر کی جاتی رہیں تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس رہے جہاں ہزاروں بچے ویکسین سے محروم رہ گئے اور یہی بچے وائرس کے تسلسل اور اس کی منتقلی کا سبب بنتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں پولیو سے انکار کی شرح صرف 1 سے 2 فیصد ہے، مگر ناکامی کا سارا بوجھ اسی انکار پر ڈال دیا گیا۔ حقیقت میں زیادہ تر بچے انکار کی وجہ سے نہیں بلکہ ٹیموں کے نہ پہنچنے، جلد بازی، غلط رپورٹنگ اور زبردستی کے ماحول کی وجہ سے مس ہوتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس اور انتظامی دباؤ کے نتیجے میں عوام میں بداعتمادی بڑھی اور “خاموش انکار” میں اضافہ ہوا، جو ڈیٹا میں نظر نہیں آتا مگر وائرس کو زندہ رکھتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پولیو پروگرام میں استعمال ہونے والا ڈیٹا زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتا بلکہ متعدد مواقع پر ناکامیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں کراچی میں پولیو وائرس کی ترسیل کو مؤثر طور پر روکا نہ جا سکا۔ یہ بیرونی آڈٹ ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ برائے پولیو پاکستان کی جون 2025 کی ہنگامی سفارش پر یکم ستمبر سے 22 نومبر 2025 کے دوران کیا گیا۔ آڈٹ کی قیادت عالمی پولیو ماہرین نے کی جبکہ اس کی تکنیکی سرپرستی اور سیکریٹریٹ کی ذمہ داری ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور مشرقی بحیرہ روم ریجن نے انجام دی۔ آڈٹ میں کراچی کے 7 اضلاع اور حیدرآباد کا 1 ضلع شامل تھا اور یہ مہم کی تیاری، عملدرآمد اور نتائج کی مکمل جانچ پر مبنی تھا۔رپورٹ کے مطابق پولیو پروگرام کا موجودہ ڈیٹا، مانیٹرنگ اور رپورٹنگ نظام مہمات کے اصل معیار کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ سرکاری ریکارڈ میں جن بچوں کو ویکسینیٹڈ دکھایا گیا، حقیقت میں ان کی بڑی تعداد کو پولیو کے قطرے پلائے ہی نہیں گئے۔ سرکاری ریکارڈ میں جہاں پولیو مہمات کی کامیابی 95 سے 97 فیصد ظاہر کی جاتی رہی، وہیں آزاد آڈٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ زمینی سطح پر اصل کوریج اس سے 9 سے 12 فیصد کم ہے یہ فرق محض شماریاتی غلطی نہیں بلکہ سسٹم کی ناکامی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کی بعض یونین کونسلز میں ویکسینیشن کوریج 100 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔

اہم خبریں سے مزید