اسلام آباد (مہتاب حیدر، تنویر ہاشمی) مالی سال 25-2024 کے دوران بھاری خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو 123 ارب روپے کا خالص نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ گزشتہ مالی سال 24-2023 میں یہ خسارہ 30.6 ارب روپے تھا۔ اس طرح مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے خالص نقصانات میں 300 فیصد کا خطیر اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2025 کی پہلے نصف میں بڑے خسارے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 343ارب روپے کے خالص نقصان کی اطلاع دی ہے۔تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں خسارے میں 2فیصد بہتری ہوئی۔ خسارہ کے لحاظ سے این ایچ اے 153ارب روپے کے ساتھ سرفہرست ہے، کوئٹہ الیکٹرک کو 58.1 ارب روپے، سکھر الیکٹرک کو 29.6ارب روپے، پاکستان ریلوے کو 26.5ارب روپے، پشاور الیکٹرک کو 19.7ارب روپےجبکہ پاکستان اسٹیل ملز کو 15.6 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے کا اجلاس جمعہ کے روز فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔ کابینہ کمیٹی کے سامنے مالی سال 25-2024 کے لیے تجارتی اور غیر تجارتی سرکاری اداروں کی سالانہ جامع کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، جسے وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے تیار کیا تھا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 25-2024 کے دوران سرکاری اداروں کی مجموعی آمدنی تقریباً 12.4 ٹریلین روپے رہی۔ آمدنی میں یہ کمی بڑی حد تک بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے باعث تیل کے شعبے کے منافع میں ہونے والی کمی کی وجہ سے واقع ہوئی۔ منافع کمانے والے سرکاری اداروں کے مجموعی منافع میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی، جو گزشتہ سال کے 820.7 ارب روپے کے مقابلے میں گر کر 709.9 ارب روپے رہ گیا۔ دوسری جانب خسارے میں چلنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات میں بہتری دیکھی گئی اور یہ تقریباً 2 فیصد کی کمی کے ساتھ 832.8 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔ خسارے میں (معمولی) بہتری کے باوجود، سرکاری اداروں کے شعبے کا حتمی نتیجہ 122.9 ارب روپے کے مجموعی خالص نقصان کی صورت میں نکلا، جبکہ گزشتہ سال یہ خالص نقصان 30.6 ارب روپے تھا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے 153.3 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا ہے، جس کے بعد اس کے مجموعی نقصانات بڑھ کر 1953.4 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔