ملتان (سٹاف رپورٹر) ایڈیشنل ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی ملتان عامر افتخار نے کہا ہے کہ ملاوٹ مافیا کیخلاف سخت ترین کارروائیاں جاری ہیں اور کسی بھی صورت شہریوں کی صحت سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملتان بھر میں فوڈ سیفٹی ٹیموں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ خوراک تیار کرنیوالے یونٹس، ہوٹلوں، بیکریوں اور گوداموں کی باریک بینی سے نگرانی کی جائے اور جہاں بھی ملاوٹ‘ ناقص صفائی یا مضرِ صحت مواد کے استعمال کا شبہ ہو وہاں فوری کارروائی کی جائے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ملتان ریجن نے سال2024اور 2025 کی سالانہ موازنہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ سال 2024 کی نسبت 2025 میں انسپکشنز میں 38فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جعل سازی کی خلاف ورزیوں پر مقدمات میں 105 فیصد اور 83فیصد کی شرح سے فوڈ یونٹس کی اصلاح تک پروڈکشن بند کی گئی ۔ 2025میں 2لاکھ 22ہزار لٹر ملاوٹی دودھ، 40ہزار خراب انڈے، 34ہزار کلو مضر صحت گوشت تلف کیا گیا۔ 14ہزار کلو زائدالمعیاد اور ممنوعہ اشیا ساڑھے 9ہزار لٹر ناقص آئل تلف کیا گیا ۔ اسی طرح رواں سال میں 2لاکھ 7ہزار فوڈ پوانٹس کی انسپکشن کی گئی جبکہ 88ہزار مالکان کو اصلاحی نوٹس کئے ۔ جعل سازی اور دھوکہ دہی پر 366مقدمات، 592فوڈ یونٹس کی اصلاح تک پروڈکشن بند کی گئی۔ حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں پر 521، 19فوڈ پوائنٹس کو جرمانےکئے گئے ہیں ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ملاوٹ مافیا کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر آپریشنز جاری رکھے جائیں گے اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ غیر معیاری خوراک یا ملاوٹ کی شکایت کی صورت میں فوری طور پر فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن پر اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔