کراچی (نیوز ڈیسک)ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج میں شدت ، تہران ودیگر شہروں میں بڑے مظاہرے ، کم ازکم 28ہلاکتیں ہوئی ہیں، دبئی اور ترکی سے ایران کیلئے متعدد پروازیں منسوخ، انٹرنیٹ بندش سمیت حکومت کے سخت اقدامات، ایرانی روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ "ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں"۔ انہوں نے پیشگوئی کی کہ "متکبر" امریکی صدر کا تختہ بھی اسی طرح الٹ دیا جائے گا جیسے 1979 کے انقلاب تک ایران پر حکومت کرنے والے شاہی خاندان کا الٹا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "گزشتہ رات تہران میں، شرپسندوں کے ایک گروہ نے امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے ایک ایسی عمارت کو تباہ کر دیا جو انہی کی ملکیت تھی"۔ اس دوران مجمع میں موجود مرد و خواتین "امریکہ مردہ باد" کے نعرے لگا رہے تھے۔خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ "سب جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ لاکھوں معزز لوگوں کے خون سے اقتدار میں آیا ہے، یہ تخریب کاروں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی۔"دوسری جانب، ٹرمپ نے جمعرات کی رات دیر گئے کہا کہ "اس حکومت کا تختہ الٹنے کا جوش و خروش ناقابل یقین ہے"۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو قتل کر کے جواب دیا تو "ہم ان پر بہت سخت حملہ کریں گے۔ ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ "فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں، ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ 86 سالہ خامنہ ای شاید ایران چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "وہ کسی جگہ جانے کی تلاش میں ہیں۔"سابق ایرانی بادشاہ کے خود ساختہ جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے امریکی صدر ٹرمپ سے ایران میں مداخلت کی اپیل کردی ہے،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو لبنان کے دورے کے دوران واشنگٹن اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ "براہ راست مداخلت" کر رہے ہیں تاکہ "پرسکون مظاہروں کو تفرقہ انگیز اور پرتشدد رنگ دیا جا سکے"۔،سپریم لیڈرخامنہ ای نے امریکاکے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گی ، ادھر امریکی جریدہ کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی خود کو ممکنہ ایرانی لیڈر کے طور پر پیش کر رہے ہیں، تاہم ان کی قیادت میں انقلاب کا خواب حقیقت سے دور لگ رہا ہے۔ان مظاہروں کے اثرات بین الاقوامی فضائی آمد و رفت تک پہنچ گئے ہیں۔