کراچی (اسٹاف رپورٹر) بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیشی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے صورت حال غیر یقینی کا شکار ہے، بنگلہ دیشی بورڈ حکام کی جانب سے بھارت جانے سے انکار کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے میچوں کی میزبانی میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام وینیوز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کرانے کیلئے تیار ہیں، ذرائع کے مطابق پی سی بی کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے وینیوز دستیاب نہیں تو پاکستان حاضر ہے، چیمپئنز ٹرافی اور آئی سی سی خواتین کوالیفائرز پاکستان میں ہوچکے ہیں۔ ادھر بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ نہ کھیلنے کے معاملے پر بنگلادیش کرکٹ بورڈ آئی سی سی کو خط لکھنے کے بعد جواب کا منتظر ہے۔ بورڈ کے صدر امین الاسلام کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے ساتھ تمام ثبوت اور ضروری دستاویزات شیئر کیے ہیں ، ابھی جواب نہیں آیا ہے۔ ہم نے اپنے تمام تحفظات سے آئی سی سی کو آگاہ کر دیا ہے، کہا جارہا ہے کہ ہمارے میچز کیلئے حیدرآباد یا چنئی متبادل وینیوز ہیں، ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ، حکومت کی ہدایت کے مطابق چلنا ہے، ہمارے میچز سری لنکا منتقل نہیں کیے جاتے تو ہم کیا کریں گے، فیصلہ آئی سی سی کے جواب بعد ہی کیا جائے گا ۔ پیر یا منگل تک آئی سی سی کی طرف سے جواب متوقع ہے۔ واضح رہے کہ شیڈول میں بنگلہ دیشی کے میچز کولکتہ اور ایک گروپ میچ ممبئی میں رکھے گئے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ آج بھارتی بورڈ حکام سے ملاقات میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے تحفظات سے آگاہ کریں گے اور اس کے حل پر غور کیا جائے گا۔ جے شاہ بی سی بی کے صدر امین الاسلام سے بھی ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں سیکیورٹی خدشات، مستفیض الرحمان کوآئی پی ایل سےنکالنے سمیت دیگر ایشوز پر بات چیت ہوگی ۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے ورلڈکپ کیلئے بھارت آنے سے انکار نے جے شاہ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ انہیں سخت امتحان کا سامنا ہے ، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئی سی سی کو بھیجے گئے دوسرے خط کے بعد بحران کا رنگ نمایاں طور پر بدل گیا۔ پہلے خط میں صرف سری لنکا میں مقام کی منتقلی کی درخواست کی گئی تھی، دوسرے خط میں اس معاملے کو قومی وقار کے طور پر پیش کیا گیا، بنگلہ دیش سیکیورٹی کی عمومی یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں ، بورڈ ہر کھلاڑی، کوچنگ اسٹاف ممبر اور آفیشلز کیلئے ذاتی حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ واضح پیغام بھی دیا گیا ہے کہ معاملہ اب صرف حفاظت کا نہیں بلکہ وقار کا ہے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش پر کوئی فیصلہ زبردستی مسلط کرنا آسان نہیں ہوگا، علاوہ ازیں بنگلہ دیش کے یوتھ اینڈ اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرول کے اس اعلان سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جس میں انہوں نے اپنی عوام کے موقف کو بھی سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جب ہمارے کھلاڑی کو آئی پی ایل سے باہر نکالا گیا، بھارت میں کھیلنا قومی وقار اور عزت پر دھچکا ہوگا ۔