• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مزاحمت پرنوجوان کےقتل میں ہمسا ئے ملوث نکلے، جنازہ میں بھی شریک رہے، ملزمان گرفتار

پشاور (کرائم رپورٹر) پشتخرہ پولیس نے 10 روز قبل خونی رہزنی میں ملوث گینگ کو بے نقاب کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا، ملزمان مقتول کے ہمسایہ ہیں جنہوں نے موبائل چھیننے کے دوران مزاحمت پر اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، ملزمان نے بعد میں موبائل فون 10ہزار روپے پر فروخت کیا جبکہ مقتول کے جنازے میں بھی شریک رہے ، گزشتہ روز ایس پی کینٹ عبد اللہ احسان نے ڈی ایس پی عمر آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران بتایاکہ 2 جنوری کو شہید آباد میں قبرستان کے قریب خونی راہزنی کا واقعہ پیش آیا جہاں 19سالہ شاہ زیب ولدمرتضی سکنہ شہید آباد جو حیات آبادکی فیکٹری میں ہرادمشین میں کام کرتا تھا، اسے واپسی پر نامعلوم رہزنوں نے قتل کیا۔ واقعہ کے بعد ایس ایچ او پشتخرہ افتخاراحمد کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جس نے ہیومن انٹیلی جنس سمیت دیگر شواہد پر کام کیا، انہوں نے بتایاکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کہیںبھی دکھائی نہیں دیئے گئے تاہم انہوں نے 25سے زائد افراد کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ کی تو اس دوران ملزمان شاہ زیب اور سعید اللہ عرف گوپھی نے حقائق اگل دیئے۔ایس پی نے بتایاکہ دونوں ملزمان آئس نشہ کے عادی ہے جنہوں نے دوسری وارداتیں بھی کی ہیں اور ان کی خاندان سمیت علاقے میں دہشت تھی، انہوں نے دہشت پھیلانے کیلئے ڈائناسور اور گوپھی جیسے نام رکھے۔پولیس کاکہناہے کہ موبائل 10ہزار کے عوض حیات آباد میں ایک لڑکے شعیب پر فروخت کیا گیا جو روپوش ہے اور موبائل ریکوری باقی ہے ۔دونوںملزم مقتول کے جنازے میں بھی شریک رہے تاکہ کسی کو ان پر شک وشبہ نہ ہو۔ مقتول شاہ زیب سے پہلے بھی نوشہرہ میں موٹرسائیکل چھینی گئی تھی اور اس بار اس نے مزاحمت کی جس پر ملزمان نے اسی گولی ماری۔ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کرکے ان کی جسمانی ریمانڈ حاصل کرلی گئی اور مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے ۔
پشاور سے مزید