کراچی / ڈھاکا (اسٹاف رپورٹر/ جنگ نیوز) بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کیلئے بھارت کا دورہ نہ کرنے کے فیصلے پر دوٹوک موقف اختیار کر لیا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے ٹیم بھارت نہیں جائے گی اور اپنے میچز شریک میزبان سری لنکا میں کرانے کا مطالبہ برقرار رکھا ۔ دوسری جانب آئی سی سی نے بھارت کی زبان بولتے ہوئے بنگلہ دیش کے سکیورٹی خدشات کو کم خطرہ قرار دیا اور واضح کیا ہے کہ شیڈول کے مطابق میچز بھارت میں ہی ہوں گے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی تنظیم نے بی سی بی سے اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے کو کہا گیا ہے۔ منگل کو آئی سی سی کے ساتھ ہونے والی ویڈیو کانفرنس میں بھارتی بورڈ کے نمائندے بھی شریک تھے، جو بی سی بی کے سکیورٹی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے ٹیم سے بھارت میں ہی میچز کھیلنے پر زور دے رہے تھے۔ بھارتی بورڈ حکام نے زور دیا کہ ٹیم اپنے اصل شیڈول کے مطابق بھارت میں میچز کھیلے۔ تاہم بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں، آفیشلز اور اسٹاف کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے موقف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ معاملہ سیاسی کشیدگی، سکیورٹی خدشات اور دونوں ممالک کے خراب تعلقات کے پس منظر میں حساسیت اختیار کر چکا ہے۔ ویڈیو کانفرنس میں آئی سی سی اور بنگلہ دیش بورڈ کے مطابق دونوں فریقوں نے ممکنہ حل تلاش کرنے کیلئے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ۔ بنگلہ دیشی بورڈ آفیشل کے واضح موقف کے بعد کوئی نیا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ بنگلہ دیش حکام نے بھارتی میڈیا کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے بنگلا دیش پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں کھیلنے کا کوئی دباؤ یا الٹی میٹم نہیں ہے۔ بی سی بی کے صدر امین الاسلام بلول، نائب صدر سخاوت حسین، فاروق احمد اور کرکٹ آپریشنز کمیٹی کے ڈائریکٹر نظم العابدین فہیم نے میٹنگ میں شرکت کی۔ یہ تنازع 3 جنوری کو شدت اختیار کر گیا جب انڈین پریمیئر لیگ میں بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ٹیم چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جس کے بعد بنگلہ دیش میں شدید غصہ پھیل گیا۔ سیاسی کشیدگی، سکیورٹی خدشات اور دونوں ممالک کے خراب تعلقات کی وجہ سے بی سی بی کا موقف سخت اور غیر متزلزل ہے، اور بورڈ نے واضح کر دیا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔