اسلام آباد (جنگ رپورٹر) سپریم کورٹ نے 4 سالہ سوتیلے بیٹے کے قتل میں ملوث ملزمہ پروین برکات کی درخواست ضمانت منظور کرلی ۔ دوران سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیے کہ آدھا کیس مدعی اور آدھا پولیس خراب کرتی ہے، بچے کو ماں نے ہی ماراہے ،کیسے پتہ چلے گا؟ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل تین رکنی بنچ کے روبرو ملزمہ کے وکیل ذوالفقار احمد بھٹہ نے کہا کہ ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے، ملزمہ کے خلاف نہ تو کوئی گواہ ہے اور نہ ہی کوئی ثبوت، ملزمہ نے جیل میں بھی ایک بچے کو جنم دیا ،متوفی بچہ پہلے بھی دمہ کا مریض تھا جبکہ مدعی کے وکیل نے کہاکہ ان کے موکل کے مطابق بچے کو صحیح سلامت گھر چھوڑ کر گیا تھا ،واپسی پر دیکھا کہ گھر میں بچے کی لاش پڑی تھی ،ملزمہ نے گھریلو جھگڑے پر بچے کو زیریلی چیزکھلا کر گلا دبایا تھا ۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ میڈیکل رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کی موت قدرتی نہیں تھی، ملزمہ کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔