پشاور (ارشد عزیز ملک) ٹانک میں ہونے والے ہولناک حملے میں سات پولیس اہلکاروں کی شہادت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ تحریک طالبان نے حملے کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے 60 سے 70 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جبکہ ریموٹ کنٹرول کے بجائے کمانڈ وائر کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔پولیس حکام نے جنگ کو بتایا کہ واقعے میں استعمال ہونے والی آرمڈ پرسنل کیریئر (اے پی سی) آئی ای ڈی حملوں کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی بلکہ یہ گاڑیاں بنیادی طور پر گولیوں اور چھوٹے ہتھیاروں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ حکام کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے پاس بی 6 اور بی 7 سطح کی اے پی سیز موجود ہیں جو عالمی معیار کے مطابق چھوٹے ہتھیاروں اور فائرنگ کے خلاف مؤثر سمجھی جاتی ہیں تاہم بھاری نوعیت کے آئی ای ڈی دھماکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔