کراچی ( سہیل افضل ) وزار ت تجارت پاکستان نےکراچی اور گوادر کی پورٹس پر پھنسے افغان ٹرائز ٹ ٹریڈ کےتمام کنٹینرز کو ری ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی ہے ،اس سلسلے میں وزارت تجارت پاکستان نے ایف بی آر کے ممبر کسٹمز آپریشن اور چیف کسٹمز آپریشن ایف بی آر اسلام آباد کو خط لکھ دیا ہے ،،تفصیلات کے مطابق پاک افغان سرحدی کشیدگی کے بعد اکتوبر 2025 سے افغان ٹرائزٹ کی کلیئرنس معطل ہےجس کی وجہ سے پاکستان کی تمام پورٹس پر ہزارروں کنٹینرز پڑے ہیں ،پورٹ ٹرمینلز پر جگہ کم ہو جانے کی وجہ سے پورٹس اور ٹرمینلز آپریٹرز نے حکومت سے رابطہ کر کے اس مسئلے کو حل کرنےکی درخواست کی تھی، کچھ روز قبل وزارت تجارت نے ویتنام اور ملائشیاء حکومت کی درخواست پر ان 2 ممالک سے ایسے کنٹینرز جو کہ امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے پیرا 6 (4 ) کے تحت افغان ٹرائزٹ ٹریڈ کے لئے درآمد کئے گئے ہیں ،انھیں ضروری کاروائی کے بعد کسی بھی دوسرے ملک کی پورٹ کے لئے ری ایکسپورٹ کرنے کی سہولت دی تھی ،وزارت تجارت نےخط میں کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ کنسائنمنٹ ویتنام اور ملائشیاء سے ہی امپورٹ ہو ئے ہوں لیکن اب حکومت نے تمام ممالک سے درآمد کردہ کنسائنمنٹ کو ری ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی ہے وزارت تجارت کے خط میں کہا گیا ہے کہ امپورٹرز یا ان کے کلیئرنگ ایجنٹ سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کس پورٹ پر اپنے کنٹینرز بھیجنا چاہتے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق اجازت دے دی جائے،کاروباری برادری نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے پورٹ پر دباؤ کم ہو گا،افغان بارڈر بند ہونے سے کاروباری برادری کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔