کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی جریدے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی ممکنہ دھمکی نے بھارت کے لیے ایک نیا معاشی اور سفارتی چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف عالمی تیل کی قیمتیں بلند ہو گئی ہیں بلکہ بھارت کی ایران کے ساتھ محدود مگر اسٹریٹجک تجارت اور چاہ بہار بندرگاہ تک رسائی بھی خطرے میں آ سکتی ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کیلئے امریکی پابندیوں سے چھ ماہ کی رعایت، کیا یہ نئے ٹیرف سے تحفظ دے گی؟عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھارت کی توانائی کی ضروریات متاثر ہونگی، افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی پر ممکنہ رکاوٹیں، مودی حکومت کیلئے معاشی اور سفارتی توازن برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، تاحال ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر ٹیرف کے حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ تاہم اس بیان کے فوراً بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے ، اور بھارت کے لیے یہ قیمتیں نئی تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔ بھارت اور ایران کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم چار ارب ڈالر سے کم ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ممکنہ طور پر امریکی منڈی میں 25 فیصد اضافی ٹیرف کے خطرے کے پیشِ نظر اس محدود تجارت کا دفاع نہیں کرے گی، کیونکہ امریکا بھارت کا ایک بڑا تجارتی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔