• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمدردی نہیں چاہئے، مستعفی ہونیکا فیصلہ دل سے کیا، جسٹس(ر) شوکت عزیز صدیقی

اسلام آباد (خبر نگار) قومی صنعتی تعلقات کمیشن کے مستعفی چیئرمین جسٹس(ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ وہ عہدوں کے پیچھے بھاگنے والے نہیں، این آئی آر سی کی چیئرمین شپ چیلنج سمجھ کر قبول کی تھی، ادارے کا وقار بڑھایا لیکن جس دن یہ باور کرایا گیا کہ چیئرمین شپ بطور compensation دی گئی تو اسی لمحے استعفی دے دیا کیونکہ مجھے کوئی ہمدردی نہیں چاہئے، جس نے میراکیریئر برباد کیا، ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ گزشتہ روز این آئی آر سی کے مستعفی چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ بار کے نائب صدر کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقد کئے گئے الوداعی ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ وزیر قانون نے انہیں نومبر 2024 میں چیئرمین این آئی آر سی کی ذمہ داری سنبھالنے کا کہا تو انہوں نے دو مرتبہ انکار کیا مگر پھر چیلنج سمجھ کر ذمہ داری قبول کی، اس وقت اس ادارے کو بند کرنے کا دباؤ بڑھ رہا تھا، 4 دسمبر 2024 کو چارج سنبھالا تو اس وقت این آئی آر سی میں زیر التوا کیسز کی تعداد 5380 تھی، 31 دسمبر 2025 تک 5261 کیسز نمٹائے جبکہ اس ایک سال کے دوران 5522 نئے کیسز بھی دائر ہوئے جس کی وجہ لوگوں کا اس ادارے پر اعتماد بڑھنا تھا۔
اہم خبریں سے مزید