کراچی (نیوز ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزے عارضی طور پر روکنے کا اعلان کردیا ہے ، فہرست میں بھارت کا نام شامل نہیں جبکہ ایران،روس، افغانستان ، الجزائر، آذر بائیجان ، بنگلہ دیش ، بوسنیا ، برازیل ، میانمار، عراق ، اردن، کویت ، لبنان ، لیبیا ، مراکش، شام ، یمن ، تھائی لینڈ ودیگر ممالک شامل ہیں، فیصلے کا اطلاق 21جنوری ، بدھ کے روز سے ہوگا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہایسے درخواست گزاروں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جائیگا جو حکومت پر بوجھ اور امریکی عوام کی سخاوت کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں، دوبارہ جائزے تک امیگریشن پراسیس روک دیا جائیگا۔ محکمہ خارجہ کا ایک پیپر، جو سب سے پہلے فاکس نیوزنے دیکھاہے، اور جس میں حکم دیا گیا ہے کہ قونصلر افسرانموجودہ قانون کے تحت ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیں، جب تک کہ محکمہ اسکریننگ اور جانچ پڑتال کے طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ نہ لے لے۔ویزوں کی یہ معطلی 21 جنوری سے شروع ہوگی اور اس وقت تک غیر معینہ مدت کے لیے جاری رہے گی جب تک کہ محکمہ امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ کا دوبارہ جائزہ مکمل نہیں کر لیتا۔نومبر 2025 میں، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دنیا بھر میں موجود سفارتی مراکز کو بھیجی گئی ایک کیبل (مراسلے) میں قونصلر افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ امیگریشن قانون کی "پبلک چارج" (عوامی بوجھ) کی شق کے تحت اسکریننگ کے وسیع تر نئے قوانین نافذ کریں۔یہ ہدایات قونصلر افسران کو حکم دیتی ہیں کہ وہ ایسے درخواست گزاروں کے ویزے مسترد کر دیں جن کے بارے میں یہ سمجھا جائے کہ وہ عوامی فوائد (سرکاری امداد) پر انحصار کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے لئے صحت، عمر، انگریزی زبان میں مہارت، مالیاتی صورتحال اور یہاں تک کہ طویل مدتی طبی دیکھ بھال کی ممکنہ ضرورت جیسے عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔اس کے تحت زائد العمر یا ضرورت سے زیادہ وزن (اوور ویٹ) والے درخواست گزاروں کو مسترد کیا جا سکتا ہے، ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی جنہوں نے ماضی میں کبھی حکومت سے نقد مالی امداد حاصل کی ہو یا وہ کسی (سرکاری) ادارے میں زیرِ علاج رہے ہوں۔ محکمہ خارجہکے ترجمان ٹومی پگٹ نے ایک بیان میں کہا کہ: "اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اپنے دیرینہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ان ممکنہ تارکینِ وطن کو نااہل قرار دے گا جو امریکا پر ʼپبلک چارجʼ بن سکتے ہیں اور امریکی عوام کی سخاوت کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔"انہوں نے مزید کہا: "ان 75 ممالک سے ہجرت (امیگریشن) کا عمل اس وقت تک روکا جائے گا جب تک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ امیگریشن پروسیسنگ کے طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ نہیں لے لیتا، تاکہ ایسے غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو روکا جا سکے جو ویلفیئر اور عوامی فوائد حاصل کریں گے۔