اسلام آباد (قاسم عباسی) وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں بالخصوص شکرپڑیاں میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے 29ہزار درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے 8 ہزار700 درخت صرف شکرپڑیاں میں کاٹے گئے۔ اس پر سی ڈی اے کا جواب تھا کہ یہ غیر مقامی درخت تھے اور عدالتی حکم پر ہی کاٹے گئے، پٹیشنر نے اس موقف کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ ڈویلپمنٹ اور انفراسٹرکچر کیلیے بلاامتیاز مقامی درخت بھی اندھادھند کاٹے گئے۔یہ آئینی درخواست محمد نوید احمد نے وکلا مدثر لطیف عباسی اور عمیر اسد کے توسط سے دائر کی ہے، جس میں سی ڈی اے، پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک-ای پی اے) اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو فریق بنایا گیا ہے۔