• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی ذاتی سیاست نے جنوبی ایشیا کی شطرنج بساط بدل دی

کراچی (رفیق مانگٹ) ٹرمپ کی ذاتی سیاست نے جنوبی ایشیا کی شطرنج بساط بدل دی، پاکستانی عسکری قیادت سے ٹرمپ کی قربت، بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی، فیلڈ مارشل عاصم منیر، ٹرمپ کو متاثر کرنے اور مطالبات منوانے میں مہارت رکھتے ہیں، مودی نے امریکی صدر کو پاک بھارت جنگ ختم کرانے کا کریڈٹ نہ دے کر بھاری قیمت چکائی، واشنگٹن بھارت سے دور ہو گیا، معروف امریکی صحافی فرید زکریا کی برکھا دت سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق امریکا اور بھارت کے تعلقات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی انا، تجارتی معاہدوں میں تعطل اور سفارتی بداعتمادی نے دوطرفہ تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ اسی تناظر میں معروف صحافی، ٹی وی میزبان مصنف فرید زکریا، جو بھارتی نژاد امریکی ہیں نے امریکہ سے براہِ راست برکھا دت کو بتایا کہ موجودہ امریکی طرزِ عمل نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لئے تشویش کا باعث بن رہا ہےاور اس خلا میں پاکستان ایک بار پھر واشنگٹن کے ریڈار پر آتا دکھائی دے رہا ہے۔امریکا کے بھارت میں نئے سفیر سرجیو گورے نے حال ہی میں ٹرمپ اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے تعلقات کو حقیقی دوستی قرار دیا، تاہم پس پردہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان متوقع تجارتی معاہدہ تاحال التوا کا شکار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار ہاورڈ لٹنک کے مطابق یہ تعطل کسی پالیسی اختلاف سے زیادہ ایک زخمی انا کا نتیجہ ہے، کیونکہ ٹرمپ یہ توقع رکھتے تھے کہ مودی ذاتی طور پر فون کر کے انہیں کریڈٹ دیں گے۔فرید زکریا کے مطابق، اسی دوران ایک تشویشناک مگر قابلِ توجہ پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ کے ساتھ ذاتی اور سفارتی سطح پر دوبارہ جگہ بنانا شروع کر دی ہے۔ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی فوجی قیادت کے لئے غیر معمولی گرمجوشی، پسندیدہ فیلڈ مارشل جیسے بیانات، اور ٹرمپ خاندان کے مبینہ کرپٹو کرنسی کاروباری روابط نے دہلی میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔زکریا کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ قربت وقتی ہو سکتی ہے، لیکن واشنگٹن میں ذاتی تعلقات کی بنیاد پر فیصلے ہونے کے رجحان نے پاکستان کو ایک بار پھر موقع فراہم کر دیا ہےخصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا ایران، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ لین دین پر مبنی خارجہ پالیسی اپنا رہا ہے۔تجزیہ کار کے مطابق ٹرمپ بھارت کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتے ہیں جسے امریکا کے ساتھ معاہدے کی زیادہ ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کو وہ ایک ممکنہ ٹرانزیکشنل پارٹنر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔زکریا نے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان تیزی سے چین کے قریب جا رہا ہے، لیکن امریکی پینٹاگون اس حقیقت سے مکمل آگاہ ہے اور اسی بنیاد پر واشنگٹن پاکستان کے ساتھ محدود مگر مفاد پر مبنی روابط برقرار رکھ سکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید