اسلام آباد(نمائندہ جنگ)صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس جاری کرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے ،پیپلز پارٹی صرف جمہوریت کے لئے حکومت کی اتحادی ہے ،صدر مملکت نے آرڈیننس پر دستخط نہیں کئے لیکن پھر بھی جاری کر دیا گیا ،حکومت کے ساتھ طے ہوا تھا کہ قانون سازی پر اعتماد پر لیا جائے گا،مگر کئی مرتبہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور ہمیں احتجاج کے ساتھ ترامیم بھی لانی پڑتی ہیں، ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہمایوں خان، مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی پی شازیہ مری اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نےاسلام آباد میں پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ہمایوں خان نے کہا کہ پچھلے تیرہ سال سے کے پی میں جنگلات کی تباہی ہو رہی ہے، وزیراعلی کے پی کو اپنے صوبے کا خیال رکھنا چاہیے ، وہ صوبے میں حالات ٹھیک کریں، وزیر اعلی سندھ نے روایت کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پی کے کو ٹوپی اور اجرک بھی پہنائی۔ شازیہ مری نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ایک ڈھانچہ ہونا چاہئے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سندھ میں کامیابی سے چل رہا ہے۔