کراچی (رفیق مانگٹ)برطانوی جریدہ کے مطابق ایران میں بے چینی، عرب دنیا سرد مہری کا شکار ہے،وجوہات ایران کی کمزور ہوتی علاقائی حیثیت اور خلیجی ریاستوں کا بڑھتا ہوا عدمِ استحکام کا خوف، خلیجی دارالحکومت کی محتاط خاموشی ،نظریاتی دشمنی کے باوجود عرب دنیا ایرانی استحکام کی خواہشمند، اسرائیلی جنگوں سے ایران کے علاقائی نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا،شام میں ایران نواز نظام ختم، حزب اللہ کمزور،عرب دنیا کو ایرانی حکومت کے خاتمے سے زیادہ اس کے بعد کا خوف ہے۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی جریدہ اکانومسٹ لکھتا ہے ایران ایک بار پھر شدید عوامی احتجاج کی لپیٹ میں ہے، مگر اس بار عرب دنیا کی فضا حیران کن طور پر خاموش ہے۔ 2022 کے برعکس، جب ایرانی مظاہروں نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، موجودہ احتجاج عرب ریاستوں میں نہ تو نمایاں میڈیا کوریج حاصل کر رہا ہے اور نہ ہی سفارتی سطح پر کوئی واضح ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بظاہر یہ خاموشی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ عرب ممالک اگرچہ ایرانی حکومت کے خاتمے کو خوش آئند سمجھ سکتے ہیں، مگر اس کے بعد پیدا ہونے والے ممکنہ انتشار سے شدید خوفزدہ بھی ہیں۔2022 میں جب ایران میں ملک گیر مظاہرے پھوٹے تھے تو خلیجی ممالک کے مالی تعاون سے چلنے والے عرب میڈیا اداروں نے ان احتجاجات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ پس پردہ عرب سفارت کار ایرانی نظام پر دباؤ بڑھنے پر خوش نظر آتے تھے۔ تاہم آج کے احتجاج، جو بظاہر اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں، عرب دنیا میں سرد مہری کا شکار ہیں، جس کی دو بڑی وجوہات ایران کی کمزور ہوتی علاقائی حیثیت اور خلیجی ریاستوں کا بڑھتا ہوا عدمِ استحکام کا خوف ہیں۔اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کی جنگوں نے ایران کے علاقائی نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا۔ حزب اللہ کمزور ہو چکی ہے، شام میں بشار الاسد کا ایران نواز نظام ختم ہو چکا ہے اور جون میں ایران خود اسرائیلی اور امریکی حملوں کی زد میں رہا۔ اسی جنگ کے آغاز میں حسین سلامی کی ہلاکت نے ایرانی عسکری قیادت کو بھی دھچکا پہنچایا۔