اسلام آباد (ساجد چوہدری )ایف آئی اے نے این سی سی آئی اے کے افسران سے بدعنوانی کے مقدمے میں سوا 4 کروڑ روپے برآمد کر لئے ، سب سے زیادہ ریکوری ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سے 1کروڑ 12لاکھ 95ہزار روپے کی گئی۔راولپنڈی کیس میں غیر قانونی کال سینٹرز سے 30 کروڑ روپے رشوت لینے کا الزام ،اب تک صرف 15 لاکھ روپے کی برآمدگی ہو سکی،ایف آئی اے نے بینک اکاؤنٹس منجمد، جائیدادوں کی چھان بین اور موبائل فونز فرانزک کے لیے ارسال ، مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دینے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کارروائی جاری ، این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف محکمانہ کارروائی جبکہ ایف آئی اے نے عبوری چالان کی تیاری شروع کر دی ۔ ایف آئی آے نے غیر قانونی کال سینٹرز سے این سی سی آئی اے کے مختلف افسران اور اہلکاروں کی طرف سے رشوت کی مد میں لی گئی رقوم کی برآمدگی کے حوالے سے رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جمع کرا دی ، ڈپٹی ،اسسٹنٹ ڈائریکٹرز سمیت جونیئر افسران اور ایک نجی شخص سے بھی رقوم برآمد ہوئی ہیں ، ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے این سی سی آئی اے کے خلاف ایف آئی آر نمبر 36/2025 درج کی ، لاہور کیس میں یوٹیوبر کے بھائی کی اہلیہ سے مبینہ رشوت لینے کا الزام شامل ، سائبر کرائم کیس میں سہولت کاری کے بدلے رشوت لینے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، تحقیقات میں این سی سی آئی اے لاہور میں ماہانہ رشوت کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔