• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلا میں آگ کیسے لگتی ہے، یورپی یونیورسٹیوں میں تحقیق کیلئے گرانٹ

پیرس (اے ایف پی) جب خلائی جہاز یا اسپیس اسٹیشن کے اندر کم کششِ ثقل اور انتہائی حساس حالات میں آگ بھڑکتی ہے تو اس کا رویہ زمین سے بالکل مختلف ہوتا ہے مثال کے طور پر زمین پر شمع جلائی جائے تو اسکا شعلہ نیچے سے اوپر کی جانب ہوتا ہے جبکہ خلا میں یہ شعلہ ایک گولے کی طرح ہوتا ہے۔خلا میں آگ لگنے اور اس سے نمٹنے کےعمل کو اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بوربیگو اور تین دیگر یورنیورسٹیوں کے سائنس دانوں کو یورپی ریسرچ کونسل کی جانب سے ایک تحقیقی گرانٹ دی گئی ہے۔ایک فرانسیسی یونیورسٹی آواز کی لہروں Acoustics wavesکے ذریعے اس آگ کو بجھانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ان کی تحقیق اس لیے بھی بروقت ہے کہ ناسا نے حال ہی میں نئی خلائی گاڑیوں اور اسپیس اسٹیشنز میں آکسیجن کی سطح 35 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کی ہے، لیکن آکسیجن کی مقدار بڑھنے کے ساتھ آگ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے یہ سائنس دان خلا میں آگ کی نگرانی اور اس کے تدارک کے نئے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آئندہ دہائیوں میں انسانوں کے مریخ پر قدم رکھنے کے منصوبوں کے پیشِ نظر سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خلا میں آگ کیسے لگتی ہے، کیسے پھیلتی ہے اور اسے مؤثر انداز میں کیسے بجھایا جا سکتا ہے۔
اہم خبریں سے مزید