اسلام آباد / راولپنڈی( رپورٹ حنیف خالد) قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد/راولپنڈی نے فیصل ٹاؤن اور فیصل ٹاؤن فیز II سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر ابتدائی جانچ مکمل کرنے کے بعد باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقات کے آغاز کے ساتھ ہی متاثرہ شہریوں کی بڑی تعداد نیب دفاتر پہنچ رہی ہے تاکہ اپنی شکایات، شواہد اور دستاویزی ریکارڈ جمع کرا سکے۔ متاثرین کو امید ہے کہ نیب کی جانب سے کی جانے والی کارروائی عوام کو رقوم واپس ملے گی۔ ذرائع کے مطابق، فیصل ٹاؤن کے نام پر غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبے میں سرمایہ کاری کی گئی، جہاں عوام کو رہائشی پلاٹس کی فراہمی کے دعوؤں کے ذریعے اربوں روپے وصول کیے گئے، تاہم منصوبے کے لیے درکار قانونی منظوری اور این او سیز حاصل نہیں کی گئیں۔ متعدد زمینیں متنازعہ، زرعی اور گرین ایریا میں واقع نکلیں جو رہائشی مقاصد کے لیے قانونی طور پر ممنوع ہیں۔تحقیقات کے بعد سامنے آنے والی صورتحال کے مطابق عدم منظوری اور وعدوں کے باوجود منصوبہ عدم تکمیل کا شکار ہونے کے باعث مارکیٹ میں اس کی قیمت ایک تہائی تک بھی نہیں رہی، جس سے متاثرین غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور ان کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل میں متاثرین کی زندگی بھر کی کمائی داؤ پر لگ گئی، جبکہ اب وہ نیب کی کارروائی سے رقوم کی واپسی کے لیے پرامید ہیں۔