کراچی (اسد ابن حسن) اسپیشل جج سینٹرل کراچی کی جج صاحبہ نے پانچ برس سے جاری سابقہ ایف آئی اے سائبر کرائم ایجنسی کراچی میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالغفار کو ایک آئی ٹی کمپنی کے مالک سے بھاری رشوت وصول کرنے کے الزام اور مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے اور ملزم کو باعزت بری کر دیا ہے۔ استغاثہ نے آٹھ گواہان پیش کیے مگر جس شخص نے رشوت دی اس کو نہ تو گواہ بنایا، نہ پیش کیا اور حیرت انگیز طور پر اس کا بیان بھی مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا، 17 صفحات پر مشتمل فیصلے کی تفصیلات کے مطابق 2021 میں ملزم کی سربراہی میں پانچ آئی ٹی کمپنیز کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور اس سلسلے میں دو مقدمات درج ہوئے۔ تحقیقات کے دوران استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے ایک آئی ٹی کمپنی کے سی ای او سے بھاری رشوت طلب کی، اس میں سے بڑا حصہ وصول کرنے کے بعد مزید ڈیمانڈ کرتا رہا۔ اس مبینہ رشوت وصولی میں ملزم کے ساتھ دیگر اعلی اور جونیئر افسران بھی شامل تھے (ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی) اور مقدمہ صرف ملزم کے خلاف درج کیا گیا ۔ مذکورہ مقدمے کی تحقیقات مختلف اوقات میں چار افسران نے کیں جن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد راشد بھٹی (بعد میں نوکری سے برخاست)، انسپیکٹر حبیب الرحمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نبیل محبوب اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد اقبال (تنزلی پاکر سب انسپیکٹر ہو گیا) نے کیں۔ ملزم گریڈ 18 کا افسر تھا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے اجازت لازمی حاصل کرنی چاہیے تھی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ استغاثہ نے 14 نکات پیش کیے اور اس حوالے سے شواہد پیش کیے مگر یہ شواہد ناکافی تھے لہذا مین نکات نمبر ایک سے چار ثابت نہیں کیے جا سکے اور پوائنٹ نمبر پانچ ملزم کو دفعہ 265H سی آر پی سی بری کیا جاتا ہے۔ استغاثہ نے آٹھ گواہان پیش کیے مگر جس شخص نے رشوت دی اس کو نہ تو گواہ بنایا، نہ پیش کیا اور حیرت انگیز طور پر اس کا بیان بھی مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا۔