کراچی(اسٹاف رپورٹر) وفاقی اردو یونیورسٹی کا چھٹا جلسہ تقسیم اسناد جمعرات کو منعقد ہوا۔اس موقع پر 255 طلبہ و طالبات کو اسناد دی گئیں، جن میں 47 طلبہ و طالبات کو طلائ تمغے، 24 کو نقرئی تمغے، اور 16 طلبہ کو کانسی کے تمغے سے نوازا گیا۔ مہمانِ خصوصی گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب کے مہمان خصوصی والدین ہیں اور اساتذہ ہیرے کو تراشنے میں بہت محنت کرتے ہیں اور تعریف کے حقدار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے درست سمت کا فیصلہ ضروری ہے کیونکہ غلط فیصلے سمت تبدیل کردیتے ہیں گورنر سندھ نے کہا کہ جس معاشرے میں جہالت بڑھے گی وہاں دہشت گردی بھی بڑھے گی ، آج خیبر پختونخوامیں دہشت گردی ہورہی ہے، دہشت گردی جہالت کی پیداوار ہے، جہالت کے خلاف علم کی روشنی سے لڑنا ضروری ہے اور تعلیم دہشت گردی کے خلاف مضبوط ہتھیار ہے کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ بیرون ملک سے قرضے لے کر چلانے میں ترقی نہیں کرتے۔ جب آپ کا گھر ترقی کرے گا یہ ملک بھی ترقی کرے گارکن قومی اسمبلی امین الحق نے اردو یونیورسٹی کے جلسہ عطائے اسناد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو سالوں میں یونیورسٹی کو خصوصی فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی کے لئے سرکاری گرانٹ میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس تمام کے باوجود وداقی اردو یونیورسٹی میں تنخواہوں میں تین ماہ اور پیشن میں 5 ماہ۔کی تاخیر انتظامیہ کی۔کوتاہی ہے۔ انہوں نے کہا کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی یونیورسٹی میں طالب علموں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ اردو یونیورسٹی میں طالب علموں کی تعداد کم ہورہی ہے۔