• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب میں فالج کے مریضوں کیلئے 1.2 ارب روپے کا تاریخی پروگرام

لاہور (آصف محمود بٹ)پنجاب میں فالج کے مریضوں کے لیے 1.2 ارب روپے کا تاریخی پروگرام، بروقت علاج سے ہزاروں جانیں بچانے کا فیصلہ۔54 اسپتالوں میں مرحلہ وار سہولیات، ٹیلی نیورولوجی، جدید انجیکشن اور آپریشن، پہلے سال 2500 مریضوں کے علاج کا ہدف۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں فالج کے مریضوں کے لیے ایک جامع اور جدید اسٹروک کیئر پروگرام کی منظوری دے دی ہے، جس کے لیے 1.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق حکومت موجودہ کارڈیالوجی انفراسٹرکچر کو استعمال کرے گی بتدریج نیورولوجی کی صلاحیت بھی بڑھائی جائے گی۔ پنجاب میں فالج تیزی سے ایک بڑا صحت کا بحران بنتا جا رہا ہے۔ ایک اندازےکے مطابق صوبے میں ہر ایک لاکھ آبادی میں 153 سے 250 افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں، جس سے ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025کے دوران پنجاب کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں 47 ہزار 560 فالج کے مریض داخل ہوئےجو صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ طبی تحقیق بتاتی ہے کہ 70 سے 75فیصد فالج خون کی نالی بند ہونے سے ہوتے ہیں جبکہ 25سے 30 فیصد فالج خون کی نالی پھٹنے سے ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق فالج کے علاج میں وقت سب سے اہم عنصر ہے۔ خون کی نالی بند ہونے کی صورت میں استعمال ہونے والے جدید انجیکشن (TPA یا TNK) صرف ساڑھے چار گھنٹے کے اندر مؤثر ہوتے ہیں، جبکہ بعض مریضوں میں 24گھنٹے تک خصوصی طریقہ علاج (میکنیکل تھرومبیکٹومی) فائدہ دے سکتا ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق بہت کم مریض مقررہ وقت میں اسپتال پہنچ پاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ آگاہی کی کمی اور محدود سہولیات ہیں۔ فالج کی قسم جانچنے کے لیے فوری سی ٹی اسکین انتہائی ضروری ہوتا ہے تاکہ درست علاج شروع کیا جا سکے۔
ملک بھر سے سے مزید