اسلام آباد(خالد مصطفیٰ)آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران اشاد نے جمعرات کو پاکستان کے بجلی نرخوں کے ڈھانچے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ناقابلِ برداشت توانائی لاگت اور غیر پائیدار کراس سبسڈی کا نظام ملک کے صنعتی ڈھانچے کو ناقابلِ واپسی زوال کی طرف دھکیل رہا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران اشاد نے کہا کہ ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ پانچ مسلسل مہینوں سے سال بہ سال بنیاد پر کم ہو رہی ہیں۔ صرف دسمبر 2025 میں برآمدات میں 8 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو بجلی نرخوں کے باعث برآمدی مسابقت پر فوری اور نقصان دہ اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ خطے کے مسابقتی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جہاں صنعتی بجلی عموماً 5 سے 9 امریکی سینٹ فی کلو واٹ آور کے درمیان دستیاب ہے۔ اس کے برعکس، پاکستانی صنعتیں تقریباً 13 سینٹ فی یونٹ نرخ ادا کر رہی ہیں۔