انصار عباسی
اسلام آباد:…سول سروس اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطحی عملدرآمد کمیٹی ملکی بیوروکریسی کی آئندہ ساخت پر شدید منقسم ہو چکی ہے۔ وفاقی وزراء بھرتی کے اسپیشلائزڈ نظام کے نفاذ کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں جبکہ سینئر بیوروکریٹس (جن کی اکثریت پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھتی ہے) موجودہ جنرلسٹ نظام سے ہٹ کر کسی بڑی تبدیلی کے خلاف نظر آتے ہیں۔ مشاورت سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو اس اندرونی اختلاف سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اگر کمیٹی کے اندر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا تو امکان ہے کہ سول سروس میں تقرری اور بھرتی کے حوالے سے دو مختلف اور ایک دوسرے سے متضاد سفارشات وزیر اعظم کو حتمی فیصلے کیلئے ارسال کر دی جائیں گی۔ اصلاحاتی تجاویز کی بنیاد وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم سول سروس اصلاحات کمیٹی کی سفارشات ہیں، جن میں سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کے امتحانی اور بھرتی نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی سفارش کی گئی تھی۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے اصلاحات کے نفاذ کیلئے عملدرآمد کمیٹی کو بھیجی گئی سفارشات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ موجودہ جنرلسٹ ماڈل کو بتدریج ختم کر کے اسپیشلائزڈ بھرتی نظام متعارف کرایا جائے۔ یہ نظام یا تو کلسٹر بیسڈ امتحان کے ذریعے لایا جا سکتا ہے یا پھر سی ایس ایس فریم ورک کے تحت ہر سروس گروپ کیلئے علیحدہ امتحانات کے ذریعے۔ مجوزہ ماڈل کے تحت امیدواروں کی جانچ واضح طور پر متعین تعلیمی قابلیت اور متعلقہ مضمون کی بنیاد پر کی جائے گی، اور کامیاب امیدواروں کو جنرلسٹ افسر کے طور پر شامل کرنے کے بجائے براہِ راست مخصوص اسامیوں پر تعینات کیا جائے گا۔ ان سفارشات کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی رپورٹ کی بھی حمایت حاصل ہے، جس میں تجویز دی گئی تھی کہ اختیاری مضامین کو سروس گروپس کی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ مثلاً ان لینڈ ریونیو سروس کیلئے مالیات سے متعلق مضامین اور پولیس سروس آف پاکستان کیلئے کرمنالاجی جیسے مضامین ہوں گے۔ امتحان کی زبان سے متعلق تجویز کو کمیٹی کی سب سے زیادہ زیرِ بحث اور حساس سفارشات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ ابتدائی مرحلے میں امیدواروں کو بعض لازمی پرچوں، جن میں مضمون، پِرسی اور کمپوزیشن، مطالعۂ پاکستان، اسلامیات اور کرنٹ افیئرز شامل ہیں، انگریزی یا اردو میں سے کسی ایک زبان میں حل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس تجویز کی تائید فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی پانچ سالہ کارکردگی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے، جس میں انگریزی مضمون اور مطالعہ پاکستان کو سب سے زیادہ ناکامی کی شرح والے مضامین قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سی ایس ایس 2022ء کے امتحان میں تقریباً 99؍ فیصد امیدوار دونوں پرچوں میں ناکام قرار پائے، جس سے اس امر پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ آیا زبان کی مہارت باصلاحیت امیدواروں کے انتخاب میں ایک رکاوٹ بن چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماہرین تعلیم، جن میں روڈز اسکالرز اور گیٹس اسکالرز بھی شامل ہیں، محض زبان سے متعلق انہی تقاضوں کے باعث سی ایس ایس امتحان میں کامیاب نہ ہو سکے، جو موجودہ نظام کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ مستقبل میں تمام سی ایس ایس مضامین اردو میں حل کرنے کا اختیار مرحلہ وار متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ اصلاحاتی پیکج میں ایم پی ٹی، یعنی ملٹی پل چوائسز پر مبنی ابتدائی امتحان، کا پاسنگ معیار 33؍ سے بڑھا کر 40؍ فیصد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، تاہم اس میں منفی مارکنگ شامل نہیں ہوگی۔ مجوزہ طور پر اس امتحان میں جی آر ای (GRE) یا سیٹ (SAT) طرز کے سوالات شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ امیدواروں کی تجزیاتی اور منطقی صلاحیتوں کا بہتر جائزہ لیا جا سکے۔ شفافیت کو بہتر بنانے کیلئے کمیٹی نے تحریری امتحان اور زبانی امتحان (وائوا ووچے) کیلئے واضح اور معروضی معیار وضع کرنے اور انہیں شائع کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ نفسیاتی اور سائیکومیٹرک جانچ کو بھی درجہ بندی کے ساتھ نظام کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ ایک اور اہم تجویز یہ ہے کہ سی ایس ایس امتحانی عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا مقصد بھرتی کے پورے عمل کو 6؍ ماہ یا اس سے کم مدت میں مکمل کرنا ہے۔ صوبائی اور اقلیتی کوٹہ میں مسلسل کمی، بالخصوص بلوچستان اور سندھ کے حوالے سے، کمیٹی نے اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں کم نمائندگی رکھنے والے گروپس کے امیدواروں کو اضافی امتحانی مواقع دینا بھی شامل ہے۔ تاہم، عملدرآمد کمیٹی میں شامل سینئر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) افسران، جس کی سربراہی بھی احسن اقبال کر رہے ہیں، موجودہ سینٹرل الاٹمنٹ سسٹم (سی اے ایس) اور جنرلِسٹ بنیادوں پر بھرتی کے ماڈل کو تبدیل کرنے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ ان افسران کا موقف ہے کہ پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ ایسے افسران کا متقاضی ہے جنہیں مختلف شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہو۔ ان کے مطابق موجودہ نظام آزمودہ ہے اور قیامِ پاکستان سے اب تک انتظامی ہم آہنگی کو یقینی بناتا آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر نیا خصوصی نوعیت کا بیوروکریٹک نظام متعارف کرانے کے بجائے موجودہ نظام کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھرتی کے ابتدائی مرحلے میں حد سے زیادہ تخصص متعارف کرانے سے گورننس تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے اور وزارتوں کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے برعکس، وزراء کا خیال ہے کہ سول سروس میں شعبہ جاتی مہارت رکھنے والے ماہرین کیلئے مزید گنجائش پیدا کرنے اور اسپیشلسٹ افسران کیلئے بہتر ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ پروفیشنلز اور ایکسپرٹس کو سول سروس کی طرف راغب کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس وقت اسپیشلسٹ کیڈرز کو ترقی کیلئے 15؍ برس سے زائد انتظار کرنا پڑتا ہے اور اکثریت گریڈ 19؍ یا 20؍ میں ہی ریٹائر ہو جاتی ہے۔ وزراء نے یہ بھی کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر میں پہلے پروفیشنلز کو بھرتی کیا جاتا ہے اور پھر ترقی کے ساتھ انہیں جنرلِسٹ کرداروں میں ڈھالا جاتا ہے۔