کراچی( ثاقب صغیر )جعلی ریزیڈنس پرمٹ درخواستوں پر یونان جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافروں کو آف لوڈ کر دیا گیا۔ایف آئی اے امیگریشن کے مطابق دونوں مسافر پاکستانی پاسپورٹ پر یونان جانے کے لیے سفر کر رہے تھے اور انہوں نے یونان کے ریزیڈنس پرمٹ کی درخواستیں ہونے کا دعویٰ کیا تھا تاہمممکنہ آجر ملازمت کی نوعیت، کمپنی کے پتے، تنخواہ کے پیکج یا رہائش کے انتظامات سے متعلق تسلی بخش معلومات نہ دے سکے۔امیگریشن کلیئرنس کے دوران دونوں مسافروں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے سیکنڈ لائن آفس منتقل کیا گیا تفصیلی جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا کہ دونوں مسافروں کا رابطہ گجرات کے رہائشی ایک ایجنٹ میاں سے ہوا تھا۔ملزمان کے مطابق مذکورہ ایجنٹ نے فی کس 1000 یورو کے عوض یونان کے ریزیڈنس پرمٹ کی درخواستیں تیار کروائیں۔دونوں مسافر اپنے ممکنہ آجر ملازمت کی نوعیت، کمپنی کے پتے، تنخواہ کے پیکج یا رہائش کے انتظامات سے متعلق تسلی بخش معلومات فراہم نہ کر سکے۔اسی طرح دونوں مسافر یونان کی امیگریشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کسی بھی سرکاری منظوری، درخواست کی رسید یا سرکاری خط و کتابت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ریزیڈنس پرمٹ درخواستوں کی جانچ پڑتال کے دوران متعدد سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں جن میں غیر معیاری فارمیٹ، سرکاری تصدیق کی عدم موجودگی، ریفرنس نمبرز کا فقدان اور ذاتی معلومات میں تضادات شامل ہیں۔دونوں مسافر درخواست جمع کرانے کے طریقہ کار یا قانونی منظوری کا کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے جس سے دستاویزات کے جعلی ہونے کا قوی شبہ پیدا ہوا۔دوران تفتیش دونوں مسافروں نے اعتراف کیا کہ وہ یونان پہنچ کر سیاسی پناہ (اسائلم) حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔مسافروں نے یہ مقصد کسی بھی سفری یا ویزا دستاویز میں ظاہر نہیں کیا تھا جو کہ اصل مقصد کو چھپانے اور امیگریشن قوانین سے بچنے کی کوشش ہے۔دونوں مسافروں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تمام انتظامات مذکورہ ایجنٹ کے ذریعے کیے گئے تھے اور ان کا یونان کی کسی سرکاری اتھارٹی سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں تھا۔مذکورہ حقائق کی روشنی میں دونوں مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا ہے اور انھیں سفری دستاویزات سمیت مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔