• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلقات تاریخی ہیں، ہمارا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں، پاکستانی سفیر ممتاز زہرہ

پیرس ( رضا چوہدری / نمائندہ جنگ ) فرانس میں پاکستانی سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے پاکستان کا افغانستان کے ساتھ تنازع، خواتین کے حقوق، ایران کے بارے میں موقف اور یورپی یونین سے تعلقات پر تفصلی انٹرویو میں کہا ہے کہ پاک افغان تعلقات تاریخی ہیں ، ہمارا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں ، پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں افغان عوام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ یہ وہ دوسری جنگ ہے جس کا آغاز فروری کے آخر میں ہوا لیکن جس کے بارے میں بہت کم بات کی جا رہی ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف متعدد دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے 28 فروری 2026 سے افغان شہروں پر جوابی کارروائی شروع کی۔ اس صورتحال کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے صحافی میشل توب نے فرانس میں پاکستان کی سفیر محترمہ ممتاز زہرہ بلوچ ایک تفصیلی ملاقات کی۔اس گفتگو میں انہوں نے نہ صرف اس تنازع کے اسباب بیان کیے بلکہ پاکستان میں خواتین کی حیثیت، فرانس اور یورپ کے ساتھ تعلقات اور ایران کے بارے میں پاکستان کے موقف پر بھی روشنی ڈالی۔ایک سوال کے جواب میں سفیر پاکستان نے کہا میں پہلے لفظ “حملہ” سے اختلاف کرنا چاہوں گی۔ دراصل پاکستانی افواج نے افغانستان میں موجود بعض دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔یہ گروہ پاکستان میں شہریوں، سکیورٹی فورسز اور غیر ملکی شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔یہ صورتحال کئی سالوں سے جاری ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب طالبان 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آئے۔ پاکستان نے طالبان حکام سے کئی بار کہا کہ وہ ان گروہوں کے خلاف کارروائی کریں لیکن ایسا نہیں ہوا۔بلکہ ہم نے دیکھا کہ ان دہشت گرد گروہوں کو بعض اوقات طالبان کی جانب سے تحفظ بھی حاصل ہے، حالانکہ وہ پاکستانیوں کو قتل کر رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے دہشت گردوں کا ایک گروہ افغان سکیورٹی فورسز کی مدد سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے ہمارے فوجیوں کو شہید کیا اور سرحدی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد پاکستان کو کارروائی کرنا پڑی۔اگلے سوال میں کیا اسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کہا جا سکتا ہے؟جس کے جواب میں سفیر نے کہامیں اسے جنگ نہیں کہوں گی۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ہمارا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان خاندانی اور سماجی روابط بھی ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں افغان عوام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔لہٰذا یہ جنگ نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی ہے۔اگلاسوال کیا اس تنازع کی وجہ سرحدی تنازع بھی ہے، خاص طور پر ڈرین لائن حوالے سے؟جس جواب میں سفیر پاکستان نے نفی کرتے ہو کہانہیں، سرحدی تنازع نہیں ہے۔

اہم خبریں سے مزید