• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ حکومت کا لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے ایک کروڑروپے فی کس امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ‘ فرانزک لیبارٹری لاہور سے بھی معاونت طلب کی گئی ہے‘ اگر تخریب کاری کے شواہد سامنے آئے تو سخت کارروائی کی جائے گی‘ سانحہ میں جس کی غلطی ثابت ہوئی انہیں سزائیں دی جائیں گی تاہم کسی کو بلاوجہ قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا‘ضرورت پڑنے پر عدالتی انکوائری کا بھی حکم دیا جا سکتا ہے‘ میں تسلیم کرتا ہوں کہ حکومت کی جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن سب کو خود احتسابی کی ضرورت ہے‘جو ادارے خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، انہیں بھی اپنا جائزہ لینا چاہیے‘ آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے حکومت اور تاجر برادری دونوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کووزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے تناظر میں جامع ریلیف، انکوائری اور فائر سیفٹی اصلاحات کے پیکج کا اعلان کیا۔ یہ اعلان وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا گیا۔وزیراعلیٰ کا کہناتھاکہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی تاہم ابتدائی جائزوں کے مطابق ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ اس کا سبب ہو سکتا ہے‘انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ متاثرہ دکان داروں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ گل پلازہ کے متاثرین کی مدد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت تاجر کمیٹی مالی نقصانات کا تخمینہ لگائے گی جبکہ حکومت اس کے مطابق معاونت فراہم کرے گی‘بے گھر ہونے والے دکانداروں کے لیے عارضی متبادل جگہوں کی فراہمی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔گل پلازہ میں آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی معاونت فراہم کریں گے ‘ انکوائری کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اپنی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا اور جہاں ضرورت ہوئی سزا بھی دی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے فائر سیفٹی آڈٹ 2024کے فوری نفاذ کا اعلان کیا جس کے تحت 145 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔فوری اور درمیانی مدت کے اقدامات کے تحت انہوں نے دکانوں میں فائر الارم نصب کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ انسانی جانیں بچانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

اہم خبریں سے مزید