کراچی (نیوز ڈیسک)گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد وہاں موجود دکانداروں کا کہنا ہے کہ ابتداء میں انہوں نے آگ کو معمولی سمجھا تاہم یہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت میں پھیل گئی ، ایک دکاندار شہباز اقبال نے برطانوی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ آگ بھڑک اٹھنے کے بعد وہ اور اس کے دیگر ساتھی اوپر کی طرف بھاگے اور تہہ خانے کے ایک راستے سے باہر نکل گئے تاہم اوپر کی منزلوں سے آنے والے اتنے خوش قسمت نہیں تھے چوں کہ مال بند ہونے کا وقت قریب تھا اور زیادہ تر دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے، ایک دکاندار شفیع احمد نے بتایا کہ ان کے پانچ دوست مال میں موجود ہیں،رضیہ نامی ایک خاتون نے بتایا کہ ان کے خاندان کے ایک فرد ابرابر نے دوسروں کے بچ نکلنے میں مدد کے لئے ایک دروازہ توڑا تھا، "لیکن وہ خود اب بھی پھنسا ہوا ہے، ہفتے کے بعد سے کسی نے اس کی خیر خبر نہیں سنی۔"تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کےہوا دانوںسے دھواں نکلنا شروع ہوا، تو اندر موجود لوگوں نے سوچا کہ مال کے کسی کونے میں معمولی آگ لگی ہے۔لیکن شعلے تیزی سے پھیلے اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ پوری عمارت میں پھیل گئی ۔27 سالہ دکاندار شہباز اقبال نے پیر کو برطانوی نیوز ایجنسی کو بتایا، "یہ ہماری آنکھوں کے سامنے پورے مال میں پھیل گئی،ہم نے سوچا تھا کہ یہ چھوٹی سی آگ ہے۔ کسی نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ اتنا برا ہو جائے گا۔"اقبال اور اس کے ساتھی اوپر کی طرف بھاگے اور تہہ خانے (بیسمنٹ) کے ایک راستے سے مال سے باہر نکل گئے، لیکن اوپر کی منزلوں سے آنے والے اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔ چونکہ مال بند ہونے کا وقت قریب تھا، اس لئےمال کے زیادہ تر دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔