اسلام آباد (خبر نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نےکہا ہے کہ ہمارے ہاں مائنڈ سیٹ بن گیا ہے کہ جسمانی تشدد ہی ٹارچر ہے، ذہنی تشدد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، عورتیں جس قدر سمجھوتہ کرتی ہیں مرد ایک فیصد بھی نہیں کرتے، عورت سے علیحدگی ہو گئی ہے تو اسے عزت سے رہنے دیں، شادی کے وقت ملنے وا لی سلامی ہمیشہ بیوی کی ہوتی ہے اگر اچھی زندگی گزارنی ہے تو بیوی سے سلامی مت لیں۔انھوں نے یہ ریمارکس خلع کے بعد جہیز کے تنازع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے ۔فاضل جسٹس نے کہا کہ ہمارے ہاں ایک مائنڈ سیٹ بن گیا ہے کہ اگر بیوی کو مکا یا تھپڑ ماریں گے تو اسی کو ٹارچر سمجھا جاتاہے، ذہنی تشدد کو نظر انداز کیا جاتا ہےحالانکہ یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز ہے ، عورتیں جتنا کمپرومائز کرتی ہیں مرد ان کے مقابلے میں ایک فیصد بھی نہیں کرتے۔