• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں صنفی تفاوت، کم تر خواتین ہسپتال کی دیکھ بھال تک پہنچ پاتی ہیں

اسلام آباد (قاسم عباسی) پاکستان میں صنفی تفاوت، خواتین کم تر مواقع پر ہسپتال کی دیکھ بھال تک پہنچ پاتی ہیں، 62فیصد خواتین موت کے وقت گھر پر رہتی ہیں، مردوں میں یہ شرح 56 فیصد، صنفی رکاوٹوں کی نشاندہی، حادثاتی یا سفری اموات میں مردوں کا امکان دوگنا، صحت کے نظام میں صنفی عدم مساوات پالیسی مداخلت کی متقاضی ہے۔ پاکستان کے قومی صحت کے ڈیٹا کے ایک نئے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کے آخری مراحل میں مردوں اور خواتین کے درمیان نمایاں صنفی تفاوت موجود ہے اور خواتین کی مردوں کے مقابلے میں زیادہ امکان ہے کہ وہ ہسپتال کی بجائے اپنے گھروں میں زندگی کے آخری لمحات گزاریں۔ یہ رپورٹ گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالٹکس نے پیر کے روز جاری کی، جس میں ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (DHS) کے مائیکرو ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے یہ نقشہ بنایا گیا کہ پاکستانی اپنی زندگی کے آخری لمحات کہاں گزارتے ہیں۔ رپورٹ کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ عام آبادی کے لیے گھر میں موت سب سے زیادہ عام ہے، لیکن ادارہ جاتی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی مردوں کے لیے زیادہ آسان نظر آتی ہے۔ ڈیٹا کے مطابق تقریباً 62 فیصد خواتین کی موتیں گھر پر واقع ہوتی ہیں، جبکہ مردوں میں یہ تناسب 56 فیصد ہے۔
اہم خبریں سے مزید