اسلام آباد(رانا غلام قادر، نامہ نگار) سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں حکمران اتحادی آنے سامنے آگئے، وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، ایم کیو ایم (پاکستان ) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی، استعفوں کا بھی مطالبہ کیا گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ 18ویں ترمیم ڈھکوسلا ثابت ہوا ہے، کراچی کی آگ خطرے کی گھنٹی ہے، گلی محلے میں نمائندگی نہیں ہوگی تو نہ فائر بریگیڈ ہوگا نہ کوئی مسئلہ حل ہوگا،سسٹم کی بقا کیلئے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا،فاروق ستار نے کہا کہ آگ پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں لگی ہے، سانحہ گل لازہ کو قومی سانحہ قرار دیا جائے، پیپلزپارٹی کی شہلا رضا نے کہا نیوزی لینڈ میں آگ لگی تو 40 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،قومی اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر بھی بحث ہوئی، اسد قیصر نے استفسار کیا کہ حکومت سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا صوبہ جل رہا ہے سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنی۔ قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت ہوا اور ایم کیو ایم کے مطالبے پر اجلاس کا ایجنڈا معطل کر کے کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ پر بحث کی گئی، اس دوران حکمران اتحاد تقسیم ہوا اور سیاسی جماعتیں آمنے سامنے آ گئیں، ایک دوسرے پر الزمات کی بوچھاڑ کر دی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں گل پلازہ آتشزدگی پربحث کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم اور وفاقی حکومت کراچی کےعوام کےمسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے، کراچی کو 26کروڑ گیلن پانی فراہم کرنے کے منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ گل پلازہ سانحے کے 22 گھنٹے بعد پہنچے، گورنر سندھ کامران ٹیسوری ساری رات وہاں موجود رہے۔ انہوں نے کہا یہ تیسرے درجے کی آگ تھی مگر کراچی کی انتظامیہ لاپرواہ رہی، فائر فائٹر فرقان شہید نے اپنی جان دے کر آگ بچھانے کی کوشش میں جان کی بازی ہار گیا، اب بھی 80 لوگ لاپتا ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ کراچی شہر 4 کروڑ آبادی کا شہر ہے، صدرآصف علی زرداری اپنی تقریر میں کہہ چکے ہیں، مگر کراچی کی آبادی کو دو کروڑ ظاہر کیا جاتا ہے، 4 کروڑ کی آبادی کے لیے محض 100 فائربریگیڈ ہیں جن میں سے 50 خراب ہیں، پورے شہر کے لیے محض 25 فائر بریگیڈ اسٹیشنز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارک اور باغ ختم کر رہے ہیں، 50 فیصد سے زائد تجارتی مراکز ایسے ہیں جہاں فائربریگیڈ یا ایمرجنسی کےآلات نہیں، چین سے اینٹی فائر غبارے منگوائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کےساتھ تعاون کریں لیکن آپ بھی کام کریں، آئیے مل کر کراچی کو ظہران ممدانی کا نیویارک یا صادق خان کا لندن بنائیں، آئیے 140 اے کو 28 ویں ترمیم کاحصہ بنائیں اور اس کو سیاست کی نذر نہ کریں کیونکہ یہ عوامی حقوق کامعاملہ ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب ہے ایک واقعے کو بنیاد بنا کر آپ صوبوں تک 18ویں ترمیم اور بنیادی تعلیم تک چلے گئے، سندھ ایک ملک تھا جسے قبل از مسیح دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو پہنچنے میں دیر لگی، میں مانتی ہوں کہ بلدیاتی نظام ہونا چاہیے، بلدیاتی نظام کی آڑ میں آج اندر کی کیا کیا باتیں سامنے آئیں، یہ کون سا موقع ہے کہ آپ آج اپنے دل کی بھڑاس نکالیں، جو بھی حسرتیں ہیں وہ اپنے طریقے سے بتائیں۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کراچی میں آتشزدگی اور حادثات جیسے واقعات کی روک تھام اور 25کروڑ عوام کو با اختیار بنانے کیلئے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام ناگزیر ہے۔