اسلام آباد (رانا غلام قادر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان کی عبوری حکومت نے ہماری ایک نہیں سنی،پھر انہیں سبق سکھایا، اب انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا ہے یا نہیں، خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے 800ارب روپے دیئے، کچھ صوبوں نے این ایف سی میں ملنے والے وسائل سے فائدہ اٹھا کر بھرپور ترقی کی لیکن خیبرپختونخوا میں یہ نظر نہیں آتی، چاروں صوبوں کی ترقی سے پاکستان آگے بڑھے گا، باقی صوبوں سے خیبرپختونخوا کی د س سالہ کارکردگی کا موازنہ کریں تو دددھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا، سوشل میڈیا پر شہدا کی قربانیوں کی توہین کرکے سرحد پاردشمن کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے، دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، عطا اللہ تارڑ اوردیگربھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں کووسائل ملتے ہیں ، کسی نے فائدہ اٹھا کر ان سے بھرپور ترقی کی لیکن خیبرپختونخوا میں جو ترقی ہونی چاہئے تھی وہ نظر نہیں آتی، اپنے گریبان میں جھانک کر اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور اسٹرٹیجک صوبہ قراردیتے ہوئے خیبرپختونخوا کے عوام کی غیرت، جرت و بہادری کو سراہا اور کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشتگری کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔