• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، آگ لگنے کے بڑے ہولناک سانحات بدلا کچھ بھی نہیں، تحقیقاتی رپورٹ سرد خانے کی نذر ہوجاتی ہے

کراچی( ثاقب صغیر )کراچی میں آگ لگنے کے بڑے اور ہولناک سانحات کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا، ہر سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ کچھ عرصے بعد سردخانے کی نظر ہو جاتی ہے، سانحہ بلدیہ ٹائون انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھا تاہم آج تک ان واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔سانحہ گل پلازہ میں بھی ہر واقعہ کی طرح پھر سے بہت سے سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ہر سانحے کی طرح چند روز اس پر بات ہو گی، تحقیقات کا شور اٹھے گا، اقدامات کے وعدے ہوں گے،متاثرین کی مدد کے اعلانات ہوں گے اور پھر ایک نیا سانحہ ہو گا اور گل پلازہ بھی سانحہ بلدیہ ٹائون فیکٹری ، آر جے مال ، نیو کراچی اور کورنگی فیکٹری سانحہ کی طرح بھلا دیا جائے گا۔اس واقعہ کے بعد پھر سے کئی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔سینٹرل فائر اسٹیشن کا فاصلہ گل پلازہ سے زیادہ نہیں ہے ،گو کہ فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاع پر گاڑیاں وقت پر پہنچ گئی تھیں لیکن سوال یہ ہے کہ گاڑیاں وقت پر پہنچنے کے باوجود آگ کیسے پھیلی ؟آگ بجھانے کے آلات اور کیمیکل کہاں تھے؟آگ پر قابو پانے میں 33 گھنٹے کا طویل وقت کیوں لگا؟۔3 کروڑ سے زائد کی آبادی والے شہر میں صرف 28 فائر اسٹیشن موجود ہیں۔آگ بجھانے کے لیے 43 فائر ٹینڈر، 8 اسنارکل، دو بائوذر ، ایک ریسکیو یونٹ اور ایک فوم یونٹ ہے۔اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ پانی کی فراہمی کا ہے جس میں تاخیر کی وجہ سے بڑے نقصانات ہو رہے ہیں۔شدید ساختی نقصان اور ملبہ سرچ آپریشن کو مشکل بنا دیتا ہے۔فائر فائٹنگ انفرا اسٹرکچر کی کمی،فائر ہائیڈرنٹس ،پانی کی رسائی ،بروقت فائر ٹینڈرز نہ پہنچنا ،لائف سپورٹ گاڑیوں کی کمی ،ٹریفک جام اور ٹوٹی سڑکوں کے باعث فائر ٹینڈرز کا تاخیر سے پہنچنا بھی ان واقعات میں ہونے والے نقصانات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔سال 2024 میں شہر میں آتشزدگی کے 2 ہزار 328 جبکہ سال 2025 میں 2 ہزار 524 واقعات رپورٹ ہوئے۔آگ لگنے کی وجوہات میں الیکٹریکل شارٹ سرکٹ، ناقص برقی تنصیبات ،عمارتوں میں آتش گیر سامان کا بے ترتیبی سے جمع ہونا ( کپڑے ،پلاسٹک ،کارٹن وغیرہ) ،ایمرجنسی ایگزٹس، فائر سیفٹی آلات کی کمی یا ناقص حالت، کم /بند یا بلاک ایگزٹس، ناقص ساختہ ڈیزائن،تنگ راہداریاں یا بعد از تعمیر تبدیلیاں بھی آگ لگنے کی وجہ بن رہی ہیں۔دھواں اور زہریلی گیس عمارت میں داخلے اور ریسکیو کو خطرناک بناتی ہیں۔اس دوران خصوصی سانس لینے کے آلات کی ضرورت رہتی ہے۔عمارت کا جزوی یا مکمل طور پر منہدم ہونا ریسکیو ٹیموں کے لیے نمایاں رسک ہے۔گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شہر میں بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات ، کرپشن اور ناقص انفرا اسٹرکچر نے شہر کی شناخت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔دنیا کے بڑے شہریوں میں عمارتوں کا سیفٹی آڈٹ کیا جاتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید