اسلام آباد (رپورٹ:،رانامسعود حسین) سپریم کورٹ نے خلع اور طلاق کے فرق کے حوالہ سے ایک مقدمہ کا’تاریخی نوعیت‘ کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتیں اپنی مرضی سے درخواست گزار ( بیوی) کے بیان کے بغیر طلاق کے مطالبہ کو خلع کے مطالبہ میں تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ہیں۔
نائلہ جاوید بنام ناصر خان مقدمے میں عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ اگر علیحدگی کی وجوہات موجود ہوں تو شادی کو انہی وجوہات کی بنیاد پر ختم کیا جانا چاہیے تاکہ خاتون اپنے حقِ مہر سے محروم نہ ہو سکے، نائلہ نے خلع نہیں مانگا، مقدمہ ظلم اور بلا اجازت شوہر کی دوسری شادی کی بنیاد پر تھا۔
عدالت نے مزید کہا ہے کہ شوہر دوسری شادی کرے تو پہلی بیوی مکمل حقِ مہر کے ساتھ شادی ختم کرنے کا استحقاق رکھتی ہے، عدالت نائلہ جاوید کی شادی ظلم کی بنیاد پر ختم کرتی ہے جسے قانونی طور پرʼطلاقʼ تصور کیا جائے گا۔
عدالت نے نائلہ جاوید کے سابق شوہر کو انہیں 12 لاکھ روپے بقیہ حق مہر ادا کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔
جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کردہ 5 صفحات پر مشتمل فیصلے میں آبزرویشن دی گئی ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ فیملی کورٹس بیزاری کی بنیاد پر شادی کو ʼخلعʼ میں تبدیل کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں عورت اپنے حقِ مہر سے محروم ہو جاتی ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ طریقہ کار درست نہیں ہے، نچلی عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا ہے ، نائلہ نے کبھی خلع نہیں مانگی تھی بلکہ اس کا مقدمہ تو مسلم نکاح کی تنسیخ کے ایکٹ 1939ʼ کے تحت ظلم اور شوہر کی جانب سے بغیر اجازت دوسری شادی کرنے کی بنیاد پر تھا، ریکارڈ کے مطابق شوہر (ناصر خان) نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے پہلی بیوی کی اجازت اور مسلم فیملی لا آرڈیننس1961ʼ کے تحت قانونی طریقہ کار اپنائے بغیر دوسری شادی کی ہے، اس کا یہ اقدام ذہنی و قانونی اذیت کے زمرہ میں آتا ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ شوہر نے دورانِ جرح اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو نان و نفقہ بھی ادا نہیں کیا اور اس کی دوسری شادی کے بارے میں پہلی بیوی کو علم تک نہیں تھا، عدالت نے قرار دیا ہے کہ سیکشن 2 (a) کے تحت اگر شوہر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسری شادی کرے تو اس کی پہلی بیوی مکمل حقِ مہر کے ساتھ شادی ختم کرنے کا استحقاق رکھتی ہے۔
عدالت نے قرار دیاہے کہ نائلہ جاوید کی شادی ظلم اور شوہر کی لاپرواہی کی بنیاد پر ختم کی جاتی ہے جسے قانونی طور پر ʼطلاقʼ تصور کیا جائے گا، عدالت نے فیملی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ بی بی نائلہ جاوید کو ان کا واجب الادا 12 لاکھ روپے حقِ مہر قانون کے مطابق فوری طور پر ادا کروائے۔