• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عدالتیں اپنی مرضی اور بیوی کے بیان کے بغیر طلاق کے مطالبے کو خلع میں تبدیل نہ کریں، سپریم کورٹ کی ہدایت

اسلام آباد (رپورٹ:،رانامسعود حسین) سپریم کورٹ نے خلع اور طلاق کے فرق کے حوالہ سے ایک مقدمہ کا ’’ تاریخی نوعیت ‘‘ کافیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتیں اپنی مرضی سے درخواست گزار ( بیوی) کے بیان کے بغیر طلاق کے مطالبہ کوخلع کے مطالبہ میں تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ہیں۔ نائلہ جاوید بنام ناصر خان مقدمے میں عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر علیحدگی کی وجوہات موجود ہوں تو شادی کو انہی وجوہات کی بنیاد پر ختم کیا جانا چاہیے تاکہ خاتون اپنے حقِ مہر سے محروم نہ ہو سکے، سائلہ نے خلع نہیں مانگا، مقدمہ ظلم اور بلااجازت شوہر کی دوسری شادی کی بنیاد پر تھا۔ شوہر دوسری شادی کرے تو پہلی بیوی مکمل حقِ مہر کے ساتھ شادی ختم کرنے کا استحقاق رکھتی ہے،عدالت نائلہ جاوید کی شادی ظلم کی بنیاد پر ختم کرتی ہے، جسے قانونی طور پر ʼطلاقʼ تصور کیا جائے گا، عدالت نے نائلہ جاوید کے سابق شوہر کو انہیں 12 لاکھ روپے بقیہ حق مہر ادا کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کردہ 5 صفحات پر مشتمل فیصلے میں آبزرویشن دی گئی ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ فیملی کورٹس بیزاری کی بنیاد پر شادی کو ʼخلعʼ میں تبدیل کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں عورت اپنے حقِ مہر سے محروم ہو جاتی ہے،عدالت نے قراردیاہے کہ یہ طریقہ کار درست نہیں ہے،نچلی عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا ہے ، سائلہ نے کبھی خلع نہیں مانگی تھی بلکہ اس کا مقدمہ تو مسلم نکاح کی تنسیخ کے ایکٹ 1939ʼ کے تحت ظلم اور شوہر کی جانب سے بغیر اجازت دوسری شادی کرنے کی بنیاد پر تھا،ریکارڈ کے مطابق شوہر (ناصر خان) نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے پہلی بیوی کی اجازت اورمسلم فیملی لا آرڈیننس 1961ʼ کے تحت قانونی طریقہ کار اپنائے بغیر دوسری شادی کی ہے ،اس کا یہ اقدام ذہنی و قانونی اذیت کے زمرہ میں آتا ہے،عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ شوہر نے دورانِ جرح اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو نان و نفقہ بھی ادا نہیں کیا اور اس کی دوسری شادی کے بارے میں پہلی بیوی کو علم تک نہیں تھا،عدالت نے قرار دیا ہے کہ سیکشن 2(iia) کے تحت اگر شوہر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسری شادی کرے تو اس کی پہلی بیوی مکمل حقِ مہر کے ساتھ شادی ختم کرنے کا استحقاق رکھتی ہے،عدالت نے قرار دیاہے کہ نائلہ جاوید کی شادی ظلم اور شوہر کی لاپرواہی کی بنیاد پر ختم کی جاتی ہے، جسے قانونی طور پر ʼطلاقʼ تصور کیا جائے گا، عدالت نے فیملی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ بی بی نائلہ جاوید کو ان کا واجب الادا 12 لاکھ روپے حقِ مہر قانون کے مطابق فوری طور پرادا کروائے۔

اہم خبریں سے مزید