• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی کی دوسری مدت بھی ختم ہونے کو، مستقل تقرری میں ناکامی

کراچی (سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے قائم مقام چیئرمین کی دوسری تین ماہ کی مدت ختم ہونے میں اب صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، تاہم وفاقی حکومت تاحال مستقل چیئرمین کا تقرر کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ صورتحال نے نہ صرف ایچ ای سی ایکٹ کی صریح خلاف ورزی کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں حکومتی سنجیدگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کی گئی 9رکنی سرچ کمیٹی، جس کی سربراہی وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول کر رہے تھے، نے مکمل میرٹ اور شفاف عمل کے تحت غیر ملکی جامعات سے اعلیٰ اسناد کے حامل تین نامور ماہرین تعلیم ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، ڈاکٹر محمد علی شاہ اور ڈاکٹر نیاز احمد — کو چیئرمین ایچ ای سی کے لیے منتخب کر کے سمری وزیراعظم کو ارسال کی۔ تاہم سوا ماہ گزرنے کے باوجود یہ سمری منظوری کی منتظر ہے، اور چیئرمین کا چارج بدستور وفاقی سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب کے پاس ہے۔ ایچ ای سی ایکٹ کے تحت تین ماہ کے اندر مستقل چیئرمین کی تقرری لازمی ہے، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے معاملے میں قانون، ضابطے اور ادارہ جاتی تسلسل حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ پہلے تین ماہ کی عبوری مدت اور اب مزید تین ماہ کی دوسری عبوری مدت بھی ختم ہونے کے دہانے پر ہے، جس سے یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ حکومت ایچ ای سی کو دانستہ طور پر ایڈہاک بنیادوں پر چلانا چاہتی ہے۔ مستقل چیئرمین کی عدم تعیناتی کے باعث ادارہ جاتی استحکام، پالیسی سازی، فنڈنگ کے فیصلے اور ریگولیٹری امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے انتظامی خلا کا شکار ہیں، جس کے اثرات براہِ راست جامعات، طلبہ اور تحقیق کے شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) کے جنرل سیکریٹری پروفیسر فرید نے صورتحال کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے طرزِ عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرچ کمیٹی خود وزیراعظم نے قائم کی، اسی کمیٹی نے امیدواروں کا انتخاب کیا، لیکن پھر انہی سفارشات کو نظرانداز کرنا ناقابلِ فہم ہے۔ چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث جامعات شدید مسائل سے دوچار ہیں، داخلے کم ہو رہے ہیں اور ایچ ای سی کو “یتیم ادارے” کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر مستقل چیئرمین تعینات نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ دریں اثنا، ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (APSUP) کے چیئرمین نے بھی وزیراعظم پاکستان بطور کنٹرولنگ اتھارٹی ایچ ای سی کو تحریری خط ارسال کرتے ہوئے مستقل چیئرمین کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سرچ کمیٹی کی سفارشات کے باوجود تاخیر نہ صرف قانونی تقاضوں کے منافی ہے بلکہ اس سے ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں غیر یقینی اور بے سمتی پیدا ہو رہی ہے۔
اہم خبریں سے مزید