کراچی (اسٹاف رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کیلئے اچھے اور برے کی نہیں بلکہ مکمل خاتمے کی پالیسی بنائی جائے، پختونوں کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، تیراہ میں آج پختون لاوارث ہیں،کراچی میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی حکومتیں رہیں، بلیم گیم کے بجائے مسائل حل کئے جائیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے زیر اہتمام فخر افغان خان عبدالغفار خان (باچا خان) کی 38ویں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی20ویں برسی کی مناسبت سے شاہراہ قائدین پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بجائے وفاق، کے پی حکومتیں اور اسٹیک ہولڈرز خیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے مربوط پالیسی بنائیں، پختونوں کا ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔پختون امن پسند ہیں۔عوامی مسائل کا حل خود مختار بلدیاتی نظام اور 18ویں آئینی ترمیم کی مضبوطی سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت سے پارلیمان کو اعتماد میں لیں۔سانحہ گل پلازہ بوسیدہ نظام اور کرپشن کی داستان ہے۔پختونوں کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تیراہ میں آج پختون لاوارث ہیں۔پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم الزام تراشی کے بجائے شہداء کے زخموں پر مرہم رکھیں۔کراچی کی ترقی کے لیے اے این پی سب کے ساتھ مل کام کرنے کو تیار ہے ۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے کارکنان کو سرخ سلام کرتا ہوں۔پختون قوم ایک پارٹی نہیں تحریک ہے۔باچا خان اور ولی خان کے فلسفہ اور امن کے مشن کو جاری رکھیں گے۔کراچی کےپختونوں نے ثابت کردیا یے کہ وہ اے این پی کے ساتھ ہیں۔پختون قوم نے واضح کردیا یے کہ وہ ٹی ٹی پی ۔پی ٹی آئی اور انتہا پسندی کے ساتھ نہیں ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم امن کے باسی ہیں۔پختونوں کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تیراہ میں آج پختون لاوارث ہیں۔تیراہ آپریشن سے پختون پریشان ہیں ۔خیبر پختونخوا کے معاملے پروفاق سو رہا ہے ۔کے پی کے حکومت مسخرہ پن کرر ہی ہے۔کیا وفاق کے پی کے کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھتی یے ؟ ۔میاں نواز شریف، زرداری، حکومت، پارلیمان سیاست دان سب ہائبرڈ نظام کا حصہ ہیں۔پختون جرگہ کا یہ مطالبہ ہے کہ تیراہ میں آپریشن کے نام پر پختونوں کا انخلا بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور کے پی کے حکومتیں دہشت گروں کو خلاف کارروائی کریں۔تمام اسٹیک ہولڈرز خیبر پختونخوا قیام امن کے لیے عوامی امنگوں کے مطابق پالیسی بنائیں۔ آپریشن مسائل کا حل نہیں ہے ۔ہمارا مسئلہ دہشت گردی ہے۔54 آپریشنز کرکے بھی دہشت گردی ختم نہیں ہوسکی ہے۔یہ دہشت گرد کون ہیں ؟ ۔جو ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔اچھے اور برے دہشت گردوں اور طالبان کی تفریق بند کریں۔ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ مجاہد ہیں یا فتنہ الہندوستان ہیں؟ ۔طاقت کے رجیم پہلے ان کو اپنا بچہ اور پھر دہشت گرد کہتے ہیں۔اگر اس ریاست نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ دہشت گرد خوارج اور فتنہ الہندوستان ہیں۔ریاست ان دہشت گردوں کو ماضی مذہب سے جوڑنے اور لانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سابق جرنیلوں باجوہ اور فیض حمید ۔عمران خان اور عارف علوی جہنوں نے طالبان کو واپس لاکر پاکستان میں آباد کیا ہے۔ ان کے خلاف کارروائی کرکے سزائے موت دی جائے ۔ان ماضی کے جرنیلوں اور سیاست دانوں کی وجہ سے آج دہشت گردی ہے۔دہشت گردی کے خلاف یکساں اور دیرپا پالیسی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ سرحد بند نہ کریں بلکہ بارڈر دہشت گردوں کو روکیں۔پختون قوم کے لیے باجوڑ سے چمن تک تجارت کے لیے آسان قانون بنایا جائے۔انہوں نےکہا کہ وفاق نے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے پر پارلیمان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟ اس فیصلہ سے پاکستان کو کیا فائدہ اور نقصان ہوگا۔اس سے غزہ کے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا؟ وفاقی حکومت اس معاملہ پر اپنی پالیسی واضح کرے۔