• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ سولر منصوبہ کرپشن، چینی کمپنی بلیک لسٹ، مقامی پارٹنر کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ کے میزبان شہزاد اقبال نے کہا ہے کہ سندھ سولر منصوبہ میں کرپشن کی نشاندہی پر چائنز کمپنی کو تو بلیک لسٹ کر دیا گیا لیکن بااثر مقامی پارٹنر کیخلاف کارروائی کا کچھ پتا نہیں چلا، اس کرپشن پر بلاول بھٹونے ایکشن لینے کا کہا تھا مگر صرف 19گریڈ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو معطل کیا گیا، ناصر شاہ نے مانا 3ارب روپے کا فراڈ ہوا، بلاول نے منصوبے کو سندھ کی کارکردگی بریفنگ میں کامیابی کے طور پر دکھایا،معاملہ اینٹی کرپشن کو بھیجا دیا گیا،جبکہ دستاویزات کے مطابق تحقیقات صرف نیب کرسکتا ہے۔ آج جیو نیوز کی خصوصی گفتگو کررہے تھے۔ میزبان شہزاد اقبال نے ستمبر 2025 میں اپنے پروگرام نیا پاکستان میں سندھ سولر منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے جڑے اہم حقائق سامنے لائے تھے انہوں نے بتایا تھا کہ غیر ملکی کمپنی نے ایک سولر کٹ اور پنکھوں کی لاگت 151 ڈالر بتائی اور اصل قیمت پچاس ڈالر سے کم ہے پنکھے امپورٹ کرنے تھے مگر دستاویزات میں ردوبدل کر کے مقامی پنکھے تقسیم کیے گئے۔ آج جیو نیوز کی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اقبال نے بتایا کہ جب الیکشن ہونے والے تھے تو پیپلز پارٹی نے کہا تھا کہ تین سو یونٹ فری بجلی دینے کا منصوبہ ہے لیکن الیکشن نہ جیتنے پر سولر منصوبہ بنایا تھا جسکے الگ الگ کمپوننٹ تھے جس میں دو سے ڈھائی لاکھ گھرانوں کو انہوں نے سولر کٹ فراہم کرنی تھی ۔ اور جو دستاویزات تھیں اس کے مطابق ورلڈ بینک سے جو قرضہ لیا جارہا ہے وہ فی کٹ 151 ڈالرز کا اور جو امپورٹ کی جارہی ہے وہ پچاس ڈالر سے بھی کم ہے اس کے علاوہ جو پنکھے سولر کٹ میں تھے وہ کہا گیا تھا کہ وہ ہم امپورٹ کریں گے اور وہ کمپنی جنہون نے پنکھے سپلائی کرنے تھے وہ امپورٹ نہیں الٹا پاکستان میں مینو فیکچر کر کے ایکسپورٹ کرتے ہیں جعلی امپورٹ پنکھوں کی دکھائی گئی اور اس پر جو ڈیوٹی اور ٹیکسز تھے وہ بھی کلیم کیے گئے اور اس منصوبہ میں ساڑے چھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن سامنے آرہی تھی اس پر پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور جب بھی ہم کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو کرپشن کے الزامات لگا دئیے جاتے ہیں ہم نے دوبارہ ناصر حسین کو پروگرام میں لیا جس پر انہوں نے مانا کہ اس میں کم سے کم تین ارب کا فراڈ ہوا ہے جبکہ ہمارے مطابق اس میں زیادہ کا فراڈ ہے۔ بلاول بھٹو سندھ کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دے رہے تھے جس ملیں انہوں نے سولر منصوبہ کو کامیابی کے طور پر دکھایا جبکہ ہم یہ کرپشن سامنے لائیے تھے تو بلاول بھٹو نے خود اس پر ایکشن لینے کا کہا تھا اسکے باوجود صرف انیس گریڈ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو معطل کیا گیا اور کسی کے خلاف ایکشن نہیں ہوا اور کہا گیا اینٹی کرپشن کو یہ معاملہ بھیج دیا گیا ہے نیب کا ڈاکیومنٹ واضح کر رہا ہے کہ نیب اس کی تحقیقات کرے گا اور کوئی ادارہ اس کی تحقیقات نہیں کرے گا۔ جنہوں نے یہ سپلائی کیا اس میں جو چائنیز پارٹنر تھے اس کمپنی میں ان کو بلیک لسٹ کیا لیکن جو لوکل پارٹنرز ہیں اور ہمارے مطابق ان کے بڑے کنٹیکٹڈ لوگوں سے تعلقات ہیں ان کا ابھی تک کچھ نہیں پتہ کہ وہ ملک میں ہیں بھاگ گئے ہیں اس حوالے سے سندھ حکومت نے اب تک کچھ نہیں بتایا۔
اہم خبریں سے مزید