• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چترال دروش ہسپتال صحت سہولیات سے محروم، عوام کو مشکلات کا سامنا

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی میں ضلع چترال کے دور افتادہ علاقے دروش میں صحت سہولیات کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ منگل کے روز چترال سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عارفہ بی بی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک لاکھ تیس ہزار کی آبادی پر مشتمل دروش کے واحد سرکاری ہسپتال میں تاحال صحت کارڈ کی سہولت موجود نہیں، جبکہ ڈاکٹروں کی شدید کمی کے باعث مریضوں کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔عارفہ بی بی کے مطابق دروش ہسپتال میں روزانہ اوسطاً آٹھ سو مریض او پی ڈی میں آتے ہیں، لیکن سہولیات ناکافی ہونے کے باعث بیشتر مریضوں کو پشاور ریفر کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ہسپتال کو فوری طور پر اپ گریڈ کرنے، ڈائیلاسس مشینیں فراہم کرنے اور مستقل بنیادوں پر ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔جواب میں صوبائی وزیر صحت خلیق نے ایوان کو بتایا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال لوئر چترال میں ڈاکٹروں کی تعیناتی مکمل کر دی گئی ہے جہاں تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ صحت کارڈ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دروش ہسپتال میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ڈیوٹیاں ترجیحی بنیادوں پر لگائی جائیں گی اور صحت کارڈ کی سہولت کے اجراء پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ وزیر صحت کے مطابق دروش ہسپتال اس وقت کیٹیگری ڈی میں آتا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر مزید سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
پشاور سے مزید