• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جرما کوہاٹ اراضی حقوق معاملہ، مسئلے حل کیلئے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے،وزیر مال

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی میں منگل کے روز نکتۂ اعتراض پر اراضی حقوق اور مبینہ جبری گمشدگی کے دو اہم معاملات ایوان میں گونجتے رہے، جہاں اراکین نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔رکن صوبائی اسمبلی داؤد شاہ نے جرما کوہاٹ کے اراضی حقوق کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2011ء میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے مقامی آبادی کو مالکانہ حقوق دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد لوگوں نے رقوم جمع کرائیں اور زمینیں خریدیں۔ ان کے مطابق 2013ء میں پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد بھی یہ عمل جاری رہا، تاہم 2018ء میں کابینہ نے اس حوالے سے قانون سازی کا فیصلہ کیا۔ داؤد شاہ نے خبردار کیا کہ لوگ اپنی جمع پونجی سے زمینیں خرید چکے ہیں، اگر انہیں ان کے جائز حقوق نہ دیئے گئے تو وہ ایوان میں دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔جواب میں صوبائی وزیر برائے مال نذیر عباسی نے کہا کہ اگرچہ اے این پی کے دور میں اس علاقے کی زمینوں پر مالکانہ حقوق دینے کا اعلان ہوا تھا، تاہم حکومت سٹیٹ لینڈ کو اس طریقے سے منتقل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اراضی اس وقت مقامی لوگوں کے قبضے میں ہے اور حکومت نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق معاملات بڑی حد تک حل ہو چکے ہیں اور یہ مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا۔صوبائی وزیر برائے قانون آفتاب عالم نے بھی ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر متعلقہ ڈیپارٹمنٹل میٹنگ بلائی جائے گی، تفصیلات کا جائزہ لے کر وزیراعلیٰ کو باقاعدہ پریزنٹیشن دی جائے گی تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
پشاور سے مزید